25 اگست 2012 - 19:30

وہابیت اور اموی اسلام کے خفیہ زاویوں سے پردہ کشی میں علامہ سید کمال الحیدری کا دقیق، ہمہ جہت اور مستند کلام اس بات کا باعث بنا کہ بلاد الحرمین پر مسلط وہابی حکمرانوں نے ان کا جواب دینے والوں کے لئے انعام مقرر کیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق علامہ سید کمال الحیدری شیعہ مرجع تقلید و نامی گرامی عالم دین اور حوزات علمیہ کے بے مثل اساتذہ میں سے ہیں جو عراق میں پیدا ہوئے ہیں اور شہید آیت اللہ سید محمد باقر الصدر کے شاگرد ہیں جو اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران میں قیام پذیر ہیں۔ فقہی، فلسفی، اصولی، عرفانی، اخلاقی، تفسیری اور تاریخی موضوعات پر قدرت اور تمام موضوعات میں ان قابل قدر تالیفات و تصنیفات کے ساتھ ساتھ اہل سنت کے مذہبی منابع سے مکمل واقفیت نے نیز زبردست ذہانت اور حافظے نے  علامہ الحیدری کو عالم اسلام کے جانے پہچانی شخصیت میں تبدیل کردیا ہے۔ حالیہ برسوں میں انھوں نے سیٹلائٹ ٹی وی چینلز میں حاضر ہوکر خالص محمدی اسلام اور مکتب تشیع کے علمی تحفظ کا تحفظ کیا ہے اور اموی اسلام کا زبردست مقابلہ کیا ہے اور ان کی تقاریر اور جوابات کی صدائے بازگشت عالم عرب میں خاص طور پر سنائی جارہی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ٹی وی چینل "الکوثر" پر ان کے دو اہم پروگرام  "مطارحات فی العقیدة" اور "الاطروحة المهدویة" دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مذہبی پروگراموں میں تبدیل ہوچکے ہیں جبکہ علامہ الحیدری دوسرے چینلوں کے پروگراموں میں بھی شرکت کرتے ہیں۔وہابیت اور اموی اسلام کے خفیہ زاویوں سے پردہ کشی میں علامہ سید کمال الحیدری کا دقیق، ہمہ جہت اور مستند کلام اس بات کا باعث بنا کہ بلاد الحرمین پر مسلط وہابی حکمرانوں نے ان کا جواب دینے والوں کے لئے انعام مقرر کیا۔مختلف عرب ممالک سے فون پر علامہ سے رابطہ کرتے ہیں اور ان سے مناظرہ کرتے ہیں لیکن ان کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کی معلومات مکمل اور دقیق اور ان کے جواب مدلل اور منطقی ہوتے ہیں اور مخالفین کے عقائد کو ان کی اپنی کتابوں سے استخراج کرکے ان کے سوالات کا جواب دے دیتے ہیں چنانچہ اب سعودی عرب میں ان کو مدلل جواب دینے کے لئے 10 لاکھ ریال کا انعام مقرر کیا گیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ خودکش حملوں کے لئے بھرتی کرانے اور نیلامی لگانے والے وہابیوں کو ـ ملک شام میں ـ خودکشی کے لئے تو آدمی ملتے ہیں لیکن عقل و منطق اور علم و دانش میں مسابقت کے لئے انہيں کوئی نہیں مل رہا ہے۔ .................../110