23 اگست 2012 - 19:30

ايران اورايٹمي توانائي کے عالمي ادارے آئي اے اي اے کے درميان آج جمعے کو ويانا ميں مذاکرات ہورہے ہيں-

ابنا: اقوام متحدہ کے ويانا ہيڈکوارٹر ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے نمائندہ دفتر ميں ہونے والے ان مذاکرات ميں آئي اے اي کے وفد کي قيادت ادارے کے ڈپٹي ڈائريکٹر جنرل ہرمين ناکاريتس اور ايراني وفد کي قيادت آئي اے اي اے ميں ايران کے سفير علي اصغر سلطانيہ کررہے ہيں -

  ويانا ميں آئي اے اي اے اور ايران کے درميان يہ مذاکرات ايسي حالت ميں ہورہے ہيں کہ مغربي اور صيہوني ذرائع ابلاغ نے ايران کے خلاف تشہيراتي اور الزمات کي مہم تيز کرکے مذاکرات کي فضا کو مسموم کرنے کي کوشش کي ہے جبکہ ايران ميں چھبيس اگست سے شروع ہونے والے  نيم سربراہي اجلاس کو عالمي سطح پر ايران کے خلاف امريکا اور اس کے اتحاديوں کي کوششوں کي ناکامي سے تعبير کيا جارہا ہے -ايران کے خلاف مغربي اور صيہوني حلقوں نے فضا کو مسموم کرنے کي مہم ايسي حالت ميں شروع کررکھي ہے کہ آئي اے اي اے کے سربراہ يوکيا امانو نے اعلان کيا ہے کہ ايٹمي توانائي کا عالمي ادارہ تہران کے ساتھ مذاکرات کے ہر موقع سے بھر استفادہ اور ايران کے ساتھ مثبت اتفاق رائے تک پہنچنے کي کوشش کرے گا-

ايران اور آئي اے اي اے کے درميان اس سے پہلے بھي باقي ماندہ مسائل کے حل کے لئے مذاکرات کے دو دور انجام پاچکے ہيں - اس کے علاوہ گزشتہ مئي ميں ايراني عہديداروں بالخصوص اعلي قومي سلامتي کونسل کے سيکريٹري ڈاکٹر سعيد جليلي اور ايران کے ادارہ ايٹمي توانائي کے سربراہ ڈاکٹر فريدون عباسي کے ساتھ آئي اے اي اے کے سربراہ يوکيا امانو کي ملاقات ميں دونوں فريقوں نے باقي ماندہ مسائل کے حل کے لئے باہمي تعاون کا دائرہ کار طے پانے کي اميد ظاہر کي تھي -

  ويانا ميں ايران اور آئي اے اي اے کے درميان مذاکرات ايسي حالت ميں ہورہے ہيں کہ تہران نے بارہا مغربي الزامات کو بے بنياد قرار ديتے ہوئے اعلان کيا ہے کہ اس کے پر امن ايٹمي پروگرام ميں کوئي انحراف نہيں آيا ہے اور وہ ايٹمي اسلحہ تيار کرنے کا کوئي ارادہ نہيں رکھتا - اس کے علاوہ ايران کے رہبر اعلي ، قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ ايٹمي اسلحے کي تياري کو حرام قرار دے چکے ہيں –

.......

/169