قبائلی علاقوں میں 5 برس؛ 500 سکول تباہ
دلاور خان وزیر
حکام کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران پانچ سو کے قریب سکول شدت پسندی کے کاروائیوں میں تباہ ہوچکے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حکام کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران پانچ سو کے قریب تعلیمی ادارے شدت پسندی کے کارروائیوں میں تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے پانچ لاکھ سے زیادہ بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہوگئے ہیں۔
محکمہ تعلیم فاٹا کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہاشم خان آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں جاری شدت پسندی کی کارروائیوں کے دوران اب تک چار سو پچاسی تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ ان میں کالج، ہائیر سیکنڈری سکول، ہائی سکول، مڈل اور پرائمری سکول شامل ہیں۔
محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں پچانوے، مہمند بانوے، خیبر باسٹھ، کُرم پینسٹھ، اورکزئی چالیس، شمالی وزیرستان پینتیس، جنوبی وزیرستان پینتیس جبکہ ایف آر کے علاقوں میں اکسٹھ سکول بم دھماکوں یا آگ لگا کر تباہ کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان سکولوں کے تباہ ہونے کی وجہ سے تقریباً پانچ لاکھ بچوں کا تعلیمی سلسلہ بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ لیکن بعض تباہ ہونے والے سکولوں کے لیے متبادل مقامات کا بندوبست کیاگیا ہے اور کچھ سکولوں کے لیے خیمے دیے گئے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر سکول مقامی رہائشیوں کے گھروں اور حجروں میں منتقل کیےگئے ہیں۔ بعض جگہوں پر تناور درختوں کے نیچے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔
اہلکار کے مطابق ان متبادل مقامات پر شروع کیے جانے والے سکولوں کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ ان سکولوں پر خرچے کے لیے سعودی عرب اور عرب امارات (1) کا تعاون حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کوششوں سے تقریباً پچاس فیصد بچوں کا تعلیمی سلسلہ بحال کر دیاگیا ہے لیکن پھر بھی پچاس فیصد بچے مکمل طور پر تعلیم کی حصول سے محروم ہوچکے ہیں۔
ہاشم خان کے مطابق تمام قبائلی علاقوں میں تقریباً بیس ہزار اساتذہ تعینات ہیں جن میں چھ ہزار سے زیادہ اپنی ڈیوٹیوں پر مجبوراًً نہیں جاسکتے۔ اور وہ بغیر ڈیوٹی کے تنخواہ لے رہے ہیں۔ جبکہ اس مد میں فرائض انجام دیے بغیر اساتذہ کو (؟؟) کروڑ روپے دیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تباہ شدہ سکولوں کی یہ تعداد صرف سرکاری تعلیمی اداروں کی ہے جبکہ پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔
سرکاری تعلیمی ادارے تباہ ہونے کی وجہ سے اکثر بچے اس لیے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کیونکہ ایک طرف گھر کے اخراجات پورے کرنے ہیں اور دوسری طرف پرائیوٹ سکولوں میں فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔
درویش خان خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں کوہی شیر حیدر انٹر کالج میں سیکنڈ ائیر کے طالب علم تھے۔ دو سال پہلے ان کے کالج کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا تھا جس کے بعد ان کا کالج بھی بند ہوگیا ہے۔ ان کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا ہے اور وہ کارخانوں مارکیٹ میں ایک ورکشاپ میں کام کرنے پر