ابنا: علامہ سید ساجد علی نقوی نے شہداء کے لواحقین اور پسماندگان کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ شہدائے بدر سے لے کر شہدائے کربلا تک اور دور حاضر کی کربلا میں سے خاص طور پر عصر عاشور کراچی اور اربعین حسینی کراچی' زائرین مستونگ' سانحات کوئٹہ' ڈیرہ اسماعیل خان' ڈیرہ غازی خان' لاہور' خان پور' کوہستان' چلاس' لولوسر (ٹھنڈا پانی) تک شہادتوں کا ہالہ ہے' جو وابستگان مکتب تشیع کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں شیعہ عوام کے قتل عام کے پس پردہ قوتوں کے بارے میں ہم طویل عرصہ سے متوجہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ سرکار کے ایک عام اہل کار سے لے کر صدر پاکستان تک ہم نے ہر ایک پر حجت تمام کرڈالی لیکن کسی ایک دہشت گرد اور قاتل کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا الٹا 68 مسلمہ دہشت گرد جنہیں سپریم کورٹ آف پاکستان سزائے موت سناچکی ہے اور ان کی اپیلیں تک خارج ہوچکی ہیں مگر اس کے باوجود ان کی رحم کی درخواستیں صدر پاکستان کی میز پر پڑی ہیں اور ان پر عمل درآمد میں تاخیر کی جارہی ہے۔مزید برآں ہمارے بارہا جائز اور اصولی مطالبات کہ ان سانحات پر اعلی سطحی عدالتی کمیشن تشکیل دے کر سانحات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں جائیں اور سانحہ اصل حقائق منظر عام پر لاکر عوام کو پس پردہ محرکات سے آگاہ کیا جائے' پر بھی کان نہیں دھرے گئے ۔ ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ سینکڑوں معصوم انسانوں کے قاتل مسلمہ دہشت گرد رہا کردیئے گئے جس کے بعد دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں تیزی آئی۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اگر سانحہ مستونگ'سانحہ کوہستان اور سانحہ چلاس کے مرتکب مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو یہ تازہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔انہوں نے شہداء کے لواحقین اور پسماندگان سے دلی دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کی درجات کی بلندی کی خصوصی دعا کی
.......
/169