20 اگست 2012 - 19:30

گزشتہ دنوں رونما ہونے والے سانحہ ببوسر پر ایشین ہیومن رائٹس نے سخت مذمت کی ہے۔

ابنا: ایشین ہیومن رائٹس کی آفیشل ویب سائٹ میں جاری ہونے والے بیان میں سانحہ ببوسر کی مذمت اور عدلیہ، حکومت سمیت سکیورٹی اداروں پر سخت تنقید کی گئی ہے۔

رپورٹ میں سانحہ ببوسر سے متعلق کہا گیا ہے کہ فوجی وردی میں ملبوس مُسلح دہشتگردوں نے پاکستان کی دوسری سب سے بڑی قوم شیعہ مسلمانوں پر حملہ کیا جس کےنتیجے میں متعدد شیعہ مسلمان شہید ہوگئے۔ رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں اس مقام(گلگت) میں اس قسم کی یہ تیسری کاروائی ہے جس میں شیعہ مسلمانوں کو شناخت کرکے شہید کیا گیا۔

رپورٹ میں قابل احترام عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے چیف جو کہ معمولی ایشوز پر سوموٹو کے بارے میں کافی مشہور ہیں۔ اُن پر بھی شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کی زمہ داری عائد ہوتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ شیعہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث دہشتگردوں کو آزاد کراونے میں ملوث ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کی یادہانی کروائی گئی ہے کہ سابق چیف آئی ایس آئی جنرل پاشا بھی کہہ چُکے کہ 922 دہشتگردوں کو ان عدالتوں نے آزاد کردیا جن کو خود قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 16 اگست کی صبح مسافروں کی 4 بس راولپنڈی سے گلگت کی طرف جارہی تھی جس میں 50 سے زائد مسافر سوار تھے۔ اس بس کو فوجی وردی میں ملبوس دہشتگردوں نے ببوسر روڈ کاغان وے مانسہرہ ڈسٹرکٹ کے پاس روکا اور تمام مسافروں کہ شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد صرف شیعہ مسلمانوں کو شناخت کرنے کے بعد اللہ اکبر کہہ کر شہید کردیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کے واقعات کی زمہ داری تحریک طالبان، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کھلم کھلا قبول کرتی ہیں۔اس کہ باوجود سکیورٹی ایجنسیاں ان دہشتگردوں کو لگام دینے میں ناکام رہی ہیں۔

رپورٹ کہ آخر میں قابل احترام چیف جسٹس کو کہا گیا ہے کہ وہ اس قاتل عام کے خلاف سوموٹو ایکشن لیں۔ شیعہ مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث دہشتگردوں کے خلاف قانونی کاروائی کریں۔

.......

/169