اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آج 12 مہر سید ہاشم صفی الدین کی شہادت کی برسی ہے۔ وہ ایک ایسی باوفا اور مؤثر شخصیت تھے جنہوں نے حزب اللہ کے تقریباً تمام اہم معاملات میں نمایاں کردار ادا کیا، تاہم وہ گمنامی کو ترجیح دیتے تھے۔
انہوں نے حزب اللہ کی قیادت کا مختصر ترین لیکن انتہائی مؤثر دور گزارا۔ ان کے چھ روزہ دور میں ان کی موجودگی نے مزاحمتی معاشرے اور حزب اللہ کے مجاہدین کے لیے حوصلے اور اطمینان کا باعث بن کر اہم کردار ادا کیا۔
لیکن ان کی خدمات صرف اسی عرصے تک محدود نہیں تھیں۔ سید ہاشم نے ان چھ دنوں اور اس سے پہلے بھی مختلف شخصیات سے وسیع روابط قائم کیے، شیخ نبیل قاووق کی جگہ حفاظتی اور خفیہ معلومات کے شعبے میں اقدامات کیے اور شیخ نعیم کے تعاون سے فوجی و سلامتی کے شعبوں میں مختلف اقدامات اور منصوبوں پر کام کیا، جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے تنظیمی ڈھانچے کو دوبارہ منظم کرنے اور اسے برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
ولادت اور تعلیم
سید ہاشم صفی الدین 1964ء میں جنوبی لبنان کے علاقے دیر قانون النہر میں ایک بااثر اور معروف خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے جوانی میں دینی علوم کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے قم کا رخ کیا۔ قم جانے سے قبل انہوں نے لبنان کی اعلیٰ اسلامی شیعہ کونسل کے رکن سید محمد علی امین کی بیٹی سے شادی کی۔
سید حسن نصر اللہ سے تعلق اور دوستی
انہوں نے شہید سید حسن نصر اللہ کے ہمراہ نجف اشرف کے حوزہ علمیہ اور پھر قم کے حوزہ علمیہ میں دینی علوم حاصل کیے۔ 1994ء میں سید حسن نصر اللہ نے انہیں لبنان واپس بلایا۔
سید ہاشم صفی الدین کا سید حسن نصر اللہ سے خاندانی تعلق بھی تھا۔ وہ طویل عرصے تک لبنان کی سیاست میں نمایاں نہیں ہوئے۔ سید حسن نصر اللہ کی حفاظتی ضروریات کے پیش نظر وہ حزب اللہ کی تقریبات، بالخصوص مزاحمت کے شہداء کی تشییع جنازوں میں حزب اللہ کے سربراہ کے نمائندے کے طور پر شرکت کرتے تھے۔
حزب اللہ میں دوسرا اہم عہدہ
صفی الدین 1982ء میں حزب اللہ لبنان کے قیام کے وقت سے ہی اس تنظیم سے وابستہ تھے اور 1994ء سے حزب اللہ کی مجلسِ عاملہ کے سربراہ کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔ اس حیثیت سے وہ حزب اللہ کی معاشی اور سماجی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے تھے۔
شہید صفی الدین نے سید حسن نصر اللہ اور عماد مغنیہ کے ساتھ مل کر حزب اللہ کی بنیادی قیادت تشکیل دی۔ عماد مغنیہ فوجی شعبے میں، سید حسن نصر اللہ سیاسی میدان میں جبکہ صفی الدین انتظامی اور تنظیمی امور میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ مجلسِ عاملہ کی سربراہی حزب اللہ کے تنظیمی ڈھانچے میں دوسری اہم ترین ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔
حزب اللہ کی تنظیمی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں شہید صفی الدین کے مؤثر کردار اور مزاحمت کی جانب سے ان کی اہمیت کے پیش نظر، اکتوبر 2008ء میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی مجلسِ عمومی کے اجلاس میں انہیں سید حسن نصر اللہ کا جانشین اور حزب اللہ کی سربراہی کے لیے منتخب کیا گیا۔
2017ء میں لبنان کی مزاحمت میں ان کے مؤثر کردار، صیہونی مخالف مؤقف اور امریکی و صیہونی دشمنوں کے خلاف ان کے دوٹوک اور سخت مؤقف کے باعث امریکہ اور سعودی عرب نے ان کا نام اپنی دہشت گردی کی فہرست میں شامل کر لیا۔
امریکی و صیہونی دشمن کے خلاف شہید صفی الدین کا دوٹوک مؤقف
حزب اللہ کے کمانڈروں اور مجاہدین کی تشییع جنازوں، شہداء کی یاد میں منعقدہ پروگراموں اور تنظیم کی میدانی سرگرمیوں میں ان کی مسلسل شرکت کے ساتھ صیہونی حکومت کے خلاف ان کے واضح مؤقف اور فلسطینی کاز کی حمایت بھی نمایاں رہی۔ ان تقریروں میں وہ حزب اللہ کے مؤقف کی وضاحت کے ساتھ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا راستہ جاری رکھنے پر زور دیتے تھے۔
صفی الدین نے 2017ء میں حزب اللہ کے خلاف امریکی دباؤ کے ردعمل میں کہا تھا: ’’امریکہ کی یہ پاگل اور بدحال حکومت، جس کی سربراہی ٹرمپ کر رہا ہے، مزاحمت کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات حزب اللہ کے عزم کو مزید مضبوط کریں گے۔
انہوں نے حزب اللہ کے ایک کمانڈر کی تشییع جنازے کے موقع پر صیہونی حکومت کی دھمکیوں کے جواب میں دشمن سے مخاطب ہو کر کہا تھا: ’’وہ اپنے رونے اور ماتم کی تیاری کرے۔‘‘ یہ بیانات صیہونی حکومت کے خلاف ان کے مضبوط مؤقف اور مزاحمت کا راستہ جاری رکھنے کے عزم کا حصہ تھے۔
جولائی 2018ء میں نبطیہ میں 33 روزہ جنگ کی سالگرہ کے موقع پر صفی الدین نے فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک مزاحمت کی موجودگی کے بغیر خطے کے مستقبل کا تعین نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ’’یمن سے عراق، شام، لبنان اور فلسطین‘‘ تک کے علاقے کو خطے کے مستقبل کے جغرافیے کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ مزاحمت اس جغرافیے میں موجود رہے گی۔ انہوں نے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں کی ناکامی کو مزاحمت اور میدانی حالات میں آنے والی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
اکتوبر 2023ء میں غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد صفی الدین نے ایک بار پھر فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں حزب اللہ کے مؤقف کا واضح اظہار کیا۔ جنوبی بیروت کے مضافاتی علاقے میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فلسطینی مزاحمت کے مجاہدین سے کہا: ’’ہمارے ہتھیار اور میزائل آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑی ہے۔ غزہ جنگ کے آغاز میں یہ فلسطینی مزاحمت کے ساتھ لبنان کی مزاحمت کے تعلق کے حوالے سے ان کے واضح ترین عوامی بیانات میں سے ایک تھا۔
حزب اللہ کی تقریبات اور میدانی سرگرمیوں میں صفی الدین کی شرکت محض رسمی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ وہ ان مواقع کو مزاحمت کے تسلسل، صیہونی حکومت کے مقابلے اور فلسطینی کاز کی حمایت پر زور دینے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم کے جواب میں لبنان کی مزاحمت اور صیہونی حکومت کے درمیان جنگ کے بعد سید ہاشم صفی الدین کا مؤثر کردار انہیں مزاحمت اور خود سید حسن نصر اللہ کے لیے ایک ایسی شخصیت بنا چکا تھا جو حوصلے اور قوت کا باعث سمجھی جاتی تھی۔
شہادت؛ دیرینہ ساتھی کی شہادت کے چند ہی روز بعد
6 مہر 1403 شمسی کو سید حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد بعض خبر رساں اداروں نے سید ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کا نیا سربراہ قرار دیا، تاہم حزب اللہ نے اس وقت حفاظتی اور سلامتی کی وجوہات کی بنا پر اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔ بعد ازاں سید ہاشم کی شہادت کے بعد حزب اللہ نے اپنے بیانات میں ان کی سربراہی کی تصدیق کی۔
صیہونی فوج نے 3 اکتوبر 2024ء، مطابق 12 مہر 1403 شمسی، بیروت کے مضافاتی علاقے میں ہونے والے حملے میں سید ہاشم صفی الدین کو شہید کرنے کا اعلان کیا۔ مزاحمت کے مستقبل کے لیے ان کے مؤثر کردار کے باعث صیہونی فوج نے انہیں شہید کرنے کے لیے ان کی موجودگی کی جگہ پر 73 ٹن وزنی بنکر شکن بم برسائے۔
رپورٹوں کے مطابق سید حسن نصر اللہ کی طرح یہ بمباری بھی براہ راست ان کی شہادت کا سبب نہیں بنی بلکہ صیہونی حکومت کی جانب سے ایمبولینسوں اور امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ تک پہنچنے سے روکنے کے نتیجے میں آکسیجن کی کمی پیدا ہوئی اور بالآخر وہ شہید ہوگئے۔
بالآخر یکم آبان 1403 کو ذرائع ابلاغ نے ان کے جسد خاکی کی دریافت کی خبر دی اور حزب اللہ نے 2 آبان کو ان کی شہادت کا باضابطہ اعلان کیا۔ اس اعلان کے ساتھ مزاحمت کی ایک اور ممتاز شخصیت کا نام شہداء کی فہرست میں شامل ہوگیا اور ان کی زندگی نے مزاحمت کی آنے والی نسلوں کے لیے شجاعت اور انسانیت کی میراث چھوڑی۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے تعزیتی پیغام میں شہید صفی الدین کو مجاہد، رشید، فداکار اور حزب اللہ کے ممتاز ترین رہنماؤں میں سے ایک قرار دیا۔
آپ کا تبصرہ