19 اگست 2012 - 19:30

عالم اسلام کا آج کا بنیادی مسئلہ قدس شریف اور فلسطین مظلوم کا مسئلہ ہے جو اسلامی بیداری کی تحریک کی وجہ سے نمایاں ہوکر سامنے آیا ہے اور تمام مسلم حکومتوں اور اقوام اور سیاسی و ثقافتی مفکرین دشمن کی طرف سے ـ امت اسلامی کے درمیان اختلاف اور انتشار پیدا کرکے ـ مسلمانوں کے اس بنیادی مسئلے کو چھپانے اور جھوٹ کو سچ کرکے جتانے کی سازش سے ہوشیار رہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے عید سعید فطر کے موقع پر ملاقات کے لئے آنے والے ایران کے سینئر حکام اور اسلامی ممالک کے سفراء نیز عوام کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حساس، اہم اور فیصلہ کن حالات میں مسلمانوں کے لئے ہوشیاری، حالات و واقعات کی حقیقت جاننے اور استکباری محاذ کی انتہائی پیچیدہ سازشوں سے آگہی، کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا: دنیائے اسلام کا بنیادی اور اصلی مسئلہ قدس شریف اور فلسطینِ مظلوم کا مسئلہ ہے جو اسلامی بیداری کی تحریک کی وجہ سے ابھر کر نمایاں ہوچکا ہے اور تمام مسلم حکومتوں اور اقوام اور سیاسی و ثقافتی مفکرین دشمن کی طرف سے ـ امت اسلامی کے درمیان اختلاف اور انتشار پیدا کرکے ـ مسلمانوں کے اس بنیادی مسئلے کو چھپانے اور جھوٹ کو سچ کرکے جتانے کی سازش سے ہوشیار رہیں۔آپ نے فرمایا: مسلم حکومتیں اور اقوام کو صدیوں تک غافل رکھا گیا اور ان کی قسمت پر تسلط پسند قوتیں مسلط ہوئیں اور ان قوتوں نے اسلامی دنیا کے قلب میں صہیونی پھنسی کی بنیاد رکھی اور آج اسلامی بیداری اور علاقے میں رونما ہونے والے اہم واقعات کی بدولت غفلت کا یہ پردہ ہٹنے لگا ہے اور ہمیں اس حقیقت کو غنیمت سمجھنا چاہئے۔آپ نے مزید فرمایا: فلسطین اور قدس کا مسئلہ علاقے کے آج کے واقعات کے قلب میں واقع ہوا ہے اور اس اہم اور بنیادی اور اصلی موضوع کو فراموشی کے سپرد نہيں کرنا چاہئے اور اس کو کنارے نہیں لگانا چاہئے کیونکہ عالم اسلام کے بیشتر مسائل کا اصل سبب جعلی صہیونی (‏یہودی) ریاست ہے۔ آپ نے فرمایا: اس سال دنیا کے ان ملکوں کے عوام نے بھی یوم القدس کے موقع پر ملت ایران کا ساتھ دیا اور وہ قومیں جو قبل ازیں حکومتوں کی وجہ سے قدس کی آزادی کے لئے آواز نہيں اٹھا سکتی تھی وہ بھی اپنے انقلابات کی بنا پر اس سال میدان میں آئیں اور اس قضیئے میں اپنے موقف کا اظہار کیا۔ امام سیدعلی خامنہ ای نے فرمایا: دشمنان اسلام مسلمانوں کے اس بنیادی مسئلے کو چھپانے کے لئے نہایت پیچیدہ اور دشوار ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں اور آج اسلام دشمنوں نے "اختلاف ڈالو اور حکومت کرو" کی پرانی حکمت عملی پر عملدرآمد شروع کردیا ہے چنانچہ مسلم حکومتوں اور اسلامی اقوام ـ بالخصوص سیاسی اور ثقافتی مفکرین، دانشوروں اور علمائے دین کا فرض ہے کہ وہ حقائق کو مسلمانوں کے سامنے رکھیں اور مخفی نکتوں کی تشریح کریں۔آپ نے صہیونیت کو پورے عالم انسانیت کے لئے دائمی خطرہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: آج دشمنان اسلام ایک طرف سے مسلمانوں کے درمیان قومی، نسلی اور مذہبی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہيں اور جھوٹ کو حقیقت کی شکل دے کر ابھارنا اور جھوٹے خطرات ابھارنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف سے مسلمانوں کا فرض بنتا ہے کہ اپنی پوری ہمت کو اسلام پر عمل کرنے اور باہمی وحدت و یکجہتی کو فروع اور تقویت دے کر بڑی طاقتوں ـ اور ان کے سرغنے یعنی امریکہ ـ کی ہدایات سے سرتابی اور نافرمانی میں صرف کرنی چاہئے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: معیار یہ ہونا چاہئے کہ اسلام کے جانے پہچانے دشمن کہاں ہیں؟ اور جان لینا چاہئے کہ دشمن باطل ہے اور جو نقطہ اس کے مدمقابل ہے وہ حق کا نقطہ ہے؛ یہ معیار ہے اور ہمیں اس معیار کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ اور میری رائے کے مطابق سب سے اہم مصداق ملتوں کے اتحاد اور اتفاق کا مسئلہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ملتوں کے درمیان اختلاف ڈالیں اور ہمیں جاننا چاہئے کہ اختلاف باطل ہے۔ آیات قرآنی میں اس سے منع کیا گیا ہے؛ مسلم ملتوں کے درمیان تقرقہ، اختلاف، ایک دوسرے لڑنا جھگڑنا، زہر قاتل ہے اور ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔

.........

/110

تفصیلی خطاب کے لئے رجوع کریں:

جان لو! دشمن باطل ہے اور جو نقطہ اس کے مدمقابل ہے وہ حق کا نقطہ ہے