ابنا: ذرائع کے مطابق کمانڈوز سے جھڑپ ميں پانچ سے چھ دہشت گرد مارے گئے ہيں. سيکيورٹي فورسزکے چند اہلکاروں کے زخمي ہونے کي اطلاعات بھي ہيں ان ميں سے ايک اہلکارکي حالت تشويشناک بتائي جاتي ہے.
ترجمان پاک فضائيہ کے مطابق دہشت گردوں نے پي ايف بيس منہاس پر حملہ کيا ہے اور دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاري ہے. سيکيورٹي فورسز نے حملہ آوروں کو آگے بڑھنے سے روک ديا ہے اوراُن کي کوشش ہے کہ دہشت گردوں کو ايک جگہ گھير کر محدود کرديا جائے.
ايربيس پرموجود طيارے محفوظ ہيں جبکہ اس بيس پر جے ايف تھنڈر طيارے موجود نہيں ہيں. علاقے کو گھيرے ميں لے ليا گيا ہے. پوليس، پيراملٹري فورسز اور قانون نافذکرنے والے ديگر ادارے کے اہلکاربھي علاقے ميں پہنچ گئے ہيں.
فضائيہ کے ترجمان کاکہنا ہے کہ ايک دہشت گرد کي لاش مل گئي ہے جس کے جسم پردھماکا خيزموادبندھا ہواتھا. سيکيورٹي ذرائع کاکہنا ہے کہ کمانڈوز سے جھڑپ ميں پانچ سے چھ دہشت گرد مارے گئے ہيں تاہم آزاد ذرائع سے اس کي تصديق نہيں ہوسکي ہے۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور جن کي تعداد نو سے دس بتائي جاتي ہے پنڈ سلمان مکھن کي جانب سے ايربيس ميں داخل ہوئے جو فورسز کي يوني فورم ميں ملبوس ہيں. رات 2 بجے سے سيکيورٹي فورسز اور حملہ آوروں کے درميان فائرنگ کاسلسلہ جاري ہے.
حملہ آور دستي بم بھي استعمال کر رہے ہيں. غيرملکي خبررساں ايجنسي کے مطابق دہشت گردوں نے راکٹ لانچروں کابھي استعمال کيا اور کئي گھنٹوں سے شديد فائرنگ ہورہي ہے.
اس ايربيس پر تيس کے قريب طيارے موجود ہوتے ہيں. وفاقي وزير داخلہ نے تمام ائير پورٹس اور ائير بيس کے اطراف ميں سيکيورٹي سخت کرنے کي ہدايت جاري کردي ہے جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈي ميں بھي سيکيورٹي سخت کرنے کي ہدايت کي گئي ہے. دسمبر دوہزارسات ميں بھي کامرہ ايربيس پر خودکش کاربم دھماکے سے ايک اسکول بس کو نشانہ بنايا گيا تھا جس ميں ايربيس ملازمين کے پانچ بچے زخمي ہوگئے تھے۔
بشکریہ از روزنامہ جنگ
.......
/169
اپنی بات
واضح رہے کہ ائیرفورس آج تک دہشت گردوں کا آسان ترین نشانہ رہی ہے اور ائیر فورس کی نہایت خفیہ خبریں دہشت گردوں تک پہنچنے کی تاریخ بھی کافی پرانی ہوچکی ہے جس کی ایک مثال راولپنڈی میں ایرانی پائلٹوں پر حملہ تھا جس سے میں پانچ پائلٹ شہید ہوگئے تھے اور ان کے آنے جانے کی خبر اندر ہی سے باہر پہنچی تھی اور گاڑی کا ایک ڈرائیور چھٹی پر چلا گیا تھا اور حادثے کے دن دوسرا ڈرائیور ان کی گآڑي چلارہا تھا۔۔۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ ائیرفورس کے اندر دہشت گردوں کے اپنے بہت ہیں گوکہ جی ایچ کیو، آئی ایس ایس کی بسوں، کئي جرنیلوں، خفیہ ایجنسیوں کے کئی خفیہ عمارتوں اور بحریہ کے اڈے اور سب سے اہم جی ایچ کیو پر دہشت گردوں کے حملوں سے بھی یہی کچھ ثابت ہوتا ہے کہ گھر کے بھیدی دہشت گردی کر اور کروا رہے ہیں لیکن ان کو پکڑنے اور مسلح افواج کو خالص پاکستانی افواج بنانے کی کوئی سعی آج تک ضروری نہیں سمجھی گئی۔ یاد رہے کہ آج ہی ان ہی دہشت گردوں نے گلگت جانے والی ایک بس میں سے 20 شیعہ مسافروں کو اتار شہید کیا اور کوئٹہ میں فائرنگ کرکے تین شیعہ باشندوں کو شہید کردیا۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کے طاقتور دوست کون ہیں جن ان کی حمایت کررہے ہیں، انہیں قانون کی گرفت سے بچا رہے ہیں جبکہ پاکستان کی کوئی چیز بھی ان سے محفوظ نہیں!؟۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110