اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فارس نیوز ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس نیوز ایجنسی (رائٹرز) نے تھوڑی دیر قبل خبر دی تھی کہ 1975 سے سعودی وزیر خارجہ اور مقتول سعودی بادشاہ فیصل بن عبدالعزیز کے بیٹے سعود الفیصل آنت کے آپریشن کے تین دن بعد فوت ہوگئے ہیں لیکن اس نے اس خبر کی تردید کئے بغیر، اس کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا۔ اس رپورٹ کے مطابق رائٹرز کے رپورٹر "کرس گالاغر Chris Gallagher" نے سعود الفیصل کی موت کی خبر دی تھی اور لکھا تھا کہ وہ آنت کے آپریشن کے تین دن بعد دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران عرب وزرائے خارجہ اجلاس بھی سعود الفیصل کی بیماری کی وجہ سے ملتوی کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ الفیصل کو آنتوں میں تکلیف ہے۔رائٹرز نے الفیصل کی موت کی خبر کو تھوڑی دیر تک آن لائن رکھنے کے بعد ہٹا دیا۔رائٹرز نے [جس کی سند تصویر کی صورت میں اور قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے] نام لئے بغیر ایک اعلی سعودی کے حوالے سے لکھا تھا کہ سعود الفیصل منگل 14 اگست کو معدے کی جراحی کی وجہ سے، انتقال کرگئے لیکن چند منٹ بعد یہ خبر رائٹرز کی ویب سائٹ سے غائب ہوگئی گوکہ رائٹرز نے اس خبر کی تردید نہيں کی۔ رائٹرز نے سعودی اہلکار کے حوالے سے لکھاکہ سعود الفیصل 14 اگست کے دن بے ہوش ہوگئے اور پھر ہوش میں نہیں آئے بلکہ انتقال کرگئے۔ سعود الفیصل کل اسلامی تعاون کانفرنس کے ابتدائی اجلاس (Preparatory Meeting) یا وزرائے خارجہ کے اجلاس سے بھی غیر حاضر تھے اور ان کا پیغام ان کے نائب شہزادہ عبدالعزيز بن عبداللہ بن عبدالعزیز نے پڑھ کر سنایا۔ کہا جاتا ہے سعود الفیصل آپریشن کے بعد صحت یاب ہورہے تھے لیکن 13 اگست کو ان کی حالت بگڑ گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ رائٹرز نے سعود الفیصل کی موت کی خبر شائع کی لیکن اس کو ـ تردید کے بغیر ـ ہٹا دیا اور اب سوال یہ ہے کہ کیا ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز اور ولیعہد نائف بن عبدالعزیز کے بعد کیا سعودی خاندان کی تیسری اہم شخصیت کا بھی انتقال ہوچکا ہے؟ اور کیا قدرت نے آل سعود کے علاقائی منصوبوں کی عدم تکمیل کو ہی اپنی مشیت قرار دیا ہے جو علاقے کے عوام کی دلی خواہش ہے؟ امریکہ نے حال ہی میں سعودی بادشاہ عبداللہ کو شہزادہ المقرن کو انٹیلجنس چیف کے عہدے سے ہٹا کر بندر بن سلطان کو چیف بنانے پر مجبور کیا تھا اور آل سعود کو ہدایت کی تھی کہ سعود الفیصل کی بات کو آخری بات سمجھا کریں تو کیا اب امریکہ سعودی عرب میں ایک اور اہم سہارے سے بھی محروم ہوچکا ہے؟ واضح رہے کہ حال ہی میں بندر بن سلطان کی ہلاکت کی خبریں بھی ذرائع کی زینت بنیں جس کے بعد وہ بھی کسی کو بظاہر نظر نہيں آسکے ہیں اور مذکورہ سوالات ایسے سوالات ہیں جن کا جواب آنے والے دنوں میں ملنے کا امکان ہے۔.................
بعض مغربی ذرائع نے بدھ کے روز لکھا کہ رائٹرز کی بعض ویب سائٹ کو بعض ہیکرز نے ہیک کرلیا تھا اور سعود الفیصل کی موت کی خبر ہیکرز نے لگائی تھی۔ واللہ العالم/110خبر کی سند:

ایک لنک:After his surgery .. Saudi foreign minister dies | Journalist Profile ...