ابنا: رامین مہمان پرست نے کہا کہ شام میں فوج اور سکیورٹی فورسس کےْزریعے ایران کے اغوا شدہ افراد کو رہا کرانے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے شام کے حالات کو علاقے کے لئے نہایت ہی اہم اور فیصلہ کن قراردیتے ہوئے کہا کہ بیرونی ملکوں نے شام میں اپنے سیاسی اھداف حاصل کرنے کئے لئے اپنے تمام تر وسائل و ذرائع استعمال کرنا شروع کردئے ہیں اور انہوں نے شام کے عوام کے مطالبات کو اس ملک میں مداخلت کا بہانہ بنالیا ہے۔
مہمان پرست نے شام کے مشاورتی اجلاس کے بارے میں کہا تہران اجلاس میں تیس ملکوں کی شرکت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہےکہ بہت سے ملکوں کے لئے مشرق وسطی کا علاقہ نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے اور یہ ممالک شام میں فوجی مداخلت کو مناسب اقدام نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ تہران بدستور شام کے مخالفیں سے گفتگو کررہا ہے اور ایران کی وزارت خارجہ نے یہ کام بہت پہلے شروع کیا تھا۔ انہوں نے مکہ معظمہ میں اسلامی سربراہی اجلاس کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ تمام اسلامی ملکوں کو شام میں امن و استحکام لانے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ اس ملک میں باہر سے شروع کئےجانے والے فتنے ناکام ہوں کیونکہ اس وقت مسلمانون میں آپس کی دشمنی صرف اور صرف امریکی اور صیہونی فتنہ ہے۔
.......
/169