ابنا: سعید جلیلی نے آج دمشق پہنچنے کے بعد کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شام کے لئے قومی گفتگو سے حاصل ہونے والی راہ حل پر یقین رکھتا ہے اور بیرونی مداخلت کو مفید نہیں سمجھتا۔ انہوں نے کہا کہ شام کے گروہوں کے مذاکرات سے حاصل ہونے والی راہ حل سے شام کی ملت و حکومت پر بیرونی دباؤ ختم ہوجائے گا، انہوں نے کہا کہ تہران امید کرتا ہے کہ ملت شام کے رنج و الم میں کمی آئے گي۔سعید جلیلی نے شام میں اڑتالیس ایرانی زائرین کو اغوا کئےجانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے زائرین کو رہا کرانے کے لئے تمام تر توانائياں استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے شام میں تین زائرین کے مارے جانے کے بارے میں کہا کہ اگر یہ خبریں صحیح ہوں تو دہشت گردوں کی نہایت درندگي کی نشاندہی کرتی ہیں اور ان دہشت گردوں کے حامی ملکوں کو اس کا جواب دینا ہوگا۔قابل ذکر ہے کہ رویٹرز نے دعوی کیا ہے کہ شام میں دہشت گردوں نے تین ایرانی زائرین کو شہید کر دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ دیگر زائرین کو بھی قتل کر دیں گے۔ ہفتہ کے روز شام میں امریکہ، صہیونی ریاست اور ان کے پٹھو عرب ملکوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے ایرانی زائرین کی ایک بس اغوا کر لی تھی جس میں اڑتالیس زائرین سوار تھے ۔ یہ بس دمشق ایئر پورٹ کی طرف جا رہی تھی۔
.......
/169