5 اگست 2012 - 19:30

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے ايران اور پاکستان کے تعلقات کو ہرميدان ميں زيادہ سے زيادہ فروغ دئے جانے کي ضرورت پر زورديا ہے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق   صدر مملکت نے اتوار کو تہران ميں پاکستان کي سينيٹ کے چيئرمين سيد نير حسين بخاري سے ملاقات ميں دونوں ملکوں کے تعلقات کے فروغ کے لئے تمام امکانات و وسائل کو بروئے کار لانے کي ضرورت پر زور ديا اور کہا کہ دونوں ملکوں کي مشترکہ سرحديں تجارتي لين دين کے لحاظ سے سب سے زيادہ فعال سرحديں ہونا چاہئےـصدر  ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہاہے کہ ايران اور پاکستان کي مشترکہ سرحدوں پر تجارتي تعاون ميں اضافے سے باہمي تعاون کے فروغ کي زمين ہموار ہونے کے ساتھ ہي بد امني اور دہشت گردي پر بھي کنٹرول ہوگا ـ ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران اور پاکستان مشترکہ مفادات کےحامل ہيں اور دونوں کو مشترکہ دشمنوں کا سامنا ہے جو ان ملکوں کو ترقي نہيں کرنے دينا چاہتےـ کيونکہ دونوں ملکوں کي ترقي و استحکام  سے ان کے سامراجي عزائم کو خطرہ ہےـ صدر احمدي نژاد نے کہا کہ دشمن طاقتيں علاقے کے ملکوں اور اقوام کے مابين اختلاف کا بيج بونے کے لئے کوشاں ہيں لہذا اغيار کي مداخلت اور دہشت گردانہ سرگرميوں کے سد باب کے لئے علاقے کے ملکوں کا اتحاد بہت ضروري ہےـپاکستاني سينيٹ کے چيئرمين سيد نير حسين بخاري نے بھي اس ملاقات ميں ايران اور پاکستان کے ديرينہ تعلقات کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کےعوام کے تعلقات ميں زيادہ سے زيادہ فروغ عالمي سطح کےباہمي  تعاون کے لئے مددگار ثابت ہو سکتا ہےـ پاکستان کي سينيٹ کے چيئرمين نے وزير خارجہ صالحي سے بھي ملاقات کي اور دونوں ملکوں کے تعلقات کا جائزہ لياـوزير خارجہ صالحي نے سيد نير حسين بخاري سے ملاقات ميں باہمي تعلقات کے مستقبل کو اطمينان بخش قرار ديا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درميان بہترين سطح کے تعلقات ہيں ــ......./169