5 اگست 2012 - 19:30

شہید قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید عارف حسین الحسینی کی 24ویں برسی نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی امامیہ اسٹوڈینس آرگنائزیشن، مجلس وحدت مسلمین اور دیگر ملی اورقومی اداروں کی طرف سے مختلف پروگرام منعقد کئے گئے.

ابنا: مجلس وحدت مسلمین  کے سیکٹری جنرل علامہ ناصر جعفری نے شہید قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید عارف حسین الحسینی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا شہید قائد کی فکر، شہید کا نظریہ، شہید کا ویژن اسلام کے لیے، مسلمانوں کے لیے، پاکستان کے لیے نجات دہندہ ہےاور صراط مستقیم ہے لہٰذا شہید قائد کا ہم سے بچھڑنا اور ہماری قوم و ملت کا شہید قائد کی قیادت سے محروم ہونا یہ بہت بڑا المیہ اور بہت بڑا نقصان تھا۔ علامہ ناصر جعفری  کا کہنا تھاشہید قائد پاکستان کو ایک مستقل پاکستان دیکھنا چاہتے تھے۔ ایک ایسا پاکستان کہ جس میں پاکستان میں بسنے والے تمام طبقات کے درمیان بہترین عادلانہ تعلقات اور روابط ہوں۔ جہاں پر بھائی چارہ، اخوت ہو، مسلمانوں اور پاکستان میں بسنے والی تمام اقوام کے درمیان بھائی چارے کی بہترین مثال قائم ہو۔ شہید قائد چاہتے تھے کہ ہمارا وطن مستقل ہو، آزاد ہو، اس کی خارجہ و داخلہ پالیسی آزاد ہو۔ شہید قائد چاہتے تھے کہ پاکستان کو عالمی قوتوں کے سایہ سے نکالا جائے اور اسے خودمختار بنایا جائے۔ شہید قائد امریکہ کو شیطان بزرگ سمجھتے تھے۔ شہید قائد پاکستان کے امریکہ کے ساتھ روابط و تعلقات کو پاکستان کے حق میں نقصان دہ سمجھتے تھے بلکہ اس کو پورے خطے کے لیے نقصان دہ قرار دیتے تھے۔ گئے مجلس وحدت مسلمین  کے سیکٹری جنرل نے مزید کہا کہ شہید قائد شیعہ سنی کے تفرقے کے مقابلے میں شیعہ سنی وحدت پر یقین رکھتے تھے شہید قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید عارف حسین الحسینی کی 24ویں برسی کے موقع پر ان کے آبائی علاقہ پارا چنار میں تحریک حسینی کے زیر اہتمام اجتماع منعقد ہوا، اس اجتماع میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کرتے ہوئے اپنے شہید اور محبوب قائد کیساتھ والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار کیا، اجتماع سے تحریک حسینی کے سربراہ اور سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسین الحسینی سمیت مختلف علماء کرام اور دیگر نے خطاب کیا، اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ شہید قائد امام خمینی رہ کے معنوی فرزند اور ولایت فقہہ کے محافظ تھے۔ روحانیت، معنویت، اخلاق، پاکیزگی، بصیرت، شجاعت، ہمت، صبر یہ سب ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ایسی جامعیت کی مالک شخصیت پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔......./169