3 اگست 2012 - 19:30

اسرائیل میں متعین برطانوی سفیر مٹیف گولڈ نے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کےخلاف ریاستی جرائم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی اقدامات نے صہیونی ریاست کو دنیا میں تنہا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ پریشان کن صورت حال یہودی بستیوں کی تعمیر کی وجہ سے درپیش ہے۔

ابنا: ذرائع کے مطابق اسرائیلی ٹی وی نے برطانوی سفیر مسٹر گولڈ کا بیان نقل کیا ہے۔ اپنے اس بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل عالمی سطح پر اپنی گرتی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے پوری تگ و دو کر رہا ہے، لیکن مقبوضہ فلسطینی علاقوںمیں صہیونی ریاست کے ظالمانہ اقدامات ، غزہ کی پٹی میں چھ سال سے مسلسل معاشی ناکہ بندی اور تعمیر نو میںرکاوٹیں کھڑی کرنے اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کےخلاف جارحانہ اقدامات بالخصوص یہودی آباد کاری کی وجہ سے اسرائیل کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو بہتر بنانے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

برطانوی سفیر کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر اسرائیلی حکومت اور فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے درمیان سفارتی کشمکش چل رہی ہے۔ اس کشمکش میں انسانی حقوق کی شخصیات اور تنظیموں کا اسرائیلی کوششوں کے مقابلے میں پلڑا بھاری ہے، کیونکہ عالمی سطح پر اسرائیل کی بات کم اور انسانی حقوق کے مندوبین کی بات زیادہ قابل اعتبار خیال کی جاتی ہے۔

برطانوی سفیر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت اہم سیاسی، فوجی اور حکومتی شخصیات کو ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے ممالک کے پاس بھیج رہی ہے تاکہ صہیونی ریاست کی ساکھ کو بہتر بنایا جاسکے۔ تاہم عالمی سطح پر اسرائیل کو اپنے وفود ارسال کرنے کے باوجود کامیابی کے بجائے شرمندی اور خجالت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

......

/169