ابنا: امريکہ کي طرف سے جاري سالانہ رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ ميانمار کے روہنگيا مسلمان صحت و تعليم جيسي بنيادي سہولتوں سے محروم ہيں۔ اور انہيں بدترين امتيازي سلوک کا سامنا ہے، روہنگيا مسلمانوں کو اگرچہ يونيورسٹي ميں تعليم حاصل کرنے اور امتحانات دينے کي اجازت ہے ليکن انہيں ڈپلومہ ، ڈگري اور سرٹيفکيٹ جاري نہيں کئے جاتے اور نہ ہي انہيں سرکاري اداروں ميں ملازمتيں دي جاتي ہيں. رپورٹ کے مطابق ميانمار ميں مقيم مسلمانوں اور ديگر اقليتوں سے تعلق رکھنے والے شہريوں کو اپنے رہائشي علاقوں کي حدود سے باہر جانے کيلئے بھي مقامي انتظاميہ سے اجازت ليني پڑتي ہے. ميانمار کے مسلم اکثريتي رياست راکھين کي انتظاميہ اکثر اوقات يہاں کے باشندوں کو کسي بھي مقصد سے شہر سے باہر جانے کي اجازت نہيں ديتي اور بعض اوقات مجبوري کے باعث ان لوگوں کو شہر سے باہر جانے کي اجازت حاصل کرنے کيلئے انتظاميہ کے عملہ کو رشوت دينا پڑتي ہے. ملک کے ديگر حصوں ميں مقيم مسلمانوں کو بھي کم و بيش ايسي ہي پابنديوں کا سامنا ہے.
.....