29 جولائی 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مابین مذاکرات کی ناکامی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوگی.

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے آسٹریا کے اخبار "اسٹینڈرڈ" کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مابین مذاکرات کے بارے میں کہا کہ گذشتہ اپریل کواستنبول میں ہونیوالے مذاکرات کامیابی سےآغاز ہوگئے اور آئندہ مذاکرات میں فریقین نے مزید حقیقت پسندی کامظاہرہ کرکے اچھے فیصلوں کا ارادہ  کرلیا ہے –علی اکبر صالحی نے کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کیتھرین اشٹون اور اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کےسکریٹری اوراعلی مذاکرات کار سعید جلیلی ایک دوسرے سے رابطوں میں ہیں اور وہ اسبات کا فیصلہ کریں گے کہ مذاکرات کا اگلا دور کب اور کہاں ہو –ایران کے وزیر خارجہ نے تاکید کی کہ اس مسئلے کا حل اس بات میں مضمر ہے کہ مقابل فریق کےشکوک وشبہات کا ازالہ ہوجائے اور مذاکرات کے آغاز سے ہی یورونیم کی افزودگی کے بارے میں ایران کے حق پر توجہ دے جائے –انہوں نے مغربی ممالک کی جانب سے ایران کےخلاف پابندیوں کے مزیدسخت ہوجانے پر کہا کہ ایران پر  33 سالوں سے مغربی پابندیاں لگائی گئی ہیں اور یہ پابندیاں کبھی کم نہیں ہوئیں بلکہ ان میں اضافہ ہی ہوا ہے –علی اکبر صالحی نے مغرب کی فوجی دھمکیوں کے بارے میں کہا کہ ایران ، خطے کی سلامتی کےلئے بہت اہم ملک ہے لیکن اگر اس پر دباؤ رہا تو وہ اپنی خودمختاری اور قومی تشخص کا دفاع کرے گا.

.......

/169