ابنا: اللو لوء ٹيلي ويژن چينل نے خبردي ہے کہ بحرين کے عوام نے جزيرہ سترہ ،واديان ، القربہ ، الخارجيہ ، مرغوبان ، ابو العيش اور العکر ميں عوام نے بڑے پيمانے حکومت مخالف مظاہرے کئے۔ بحريني عوام نے المعامير ، الدير ، المقشع ، کرزکان ، الکرانہ ، شہرکان ، الکورہ ، جدعلي ، السنابس ، العالي ، جد حفص ، المصلي اور سلم آباد ميں بھي احتجاجي مظاہرے کئے - مظاہروں کے دوران آل خليفہ حکومت کے کارندوں نے حملہ کرکے متعدد مظاہرين کو گرفتار کرليا جبکہ سيکورٹي اہلکاروں کي فائرنگ کے نتيجے ميں متعدد افراد زخمي بھي ہوئےاس کے علاوہ آل خليفہ کے فوجيوں نے بحريني شہريوں کے گھروں پر بھي حملہ کيا اور گھروں کے اندر بھي انہوں نے زہريلي گيس کے گولے پھينکے۔ بحرين کي سب سے بڑي اپوزيشن جماعت جمعيت الوفاق نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ آل خليفہ حکومت کے کارندے رات کي تاريکي ميں عام شہريوں کے گھروں پرحملے کرتے ہيں الوفاق نے اس طرح کے حملوں کو غير انساني اور وحشيانہ قرارديا ہے الوفاق کے بيان ميں کہا گيا ہے کہ يہ حملے غير اخلاقي اور ديني اقدار کے بھي منافي ہيں بيان ميں کہا گيا ہے کہ تاريکي ميں آل خليفہ حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں کے اس طرح کے حملے شہريوں کے بنيادي حقوقي کھلي خلاف ورزي ہے۔واضح رہے کہ آل خليفہ حکومت کي سيکورٹي کے اہلکار عام شہريوں کے گھروں پر رات کے وقت حملے کرکے انہيں گرفتار کرکے لے جاتے ہيں اطلاعات ہيں رہائشي علاقوں ميں سيکورٹي اہلکاروں کي تعداد بڑھا دي گئي ہے۔ جمعيت الوفاق کے بيان ميں کہا گيا ہے کہ گذشتہ دو مہينوں کے دوران تقريبا تين سو گھروں پر رات کے وقت حملے کئے گئے ہيں جس کے دوران گھروں کے سامان کو بھي لوٹ ليا گيا ہے بيان ميں کہا گيا ہے کہ ان حملوں کي ذمہ داري براہ راست بحرين کے بادشاہ شيخ حمد بن عيسي آل خليفہ پر عائد ہوتي ہے۔ جمعيت الوفاق کے نائب سربراہ خليل المرزوق نے نے کہا ہے کہ بحرين کے بادشاہ نے اعلان کيا تھا کہ وہ شريف بسيوني کميٹي کي رپورٹ پر عمل کريں گے جبکہ ان دو سو ستر گھروں پر بسيوني کميٹي کي رپورٹ سامنے آنے کے بعد حملے ہوئے ہيں بنابريں ان تمام واقعات کے ذمہ دار خود بحرين کے بادشاہ ہيں۔بحرين کي اپوزيشن جماعت جمعيت الوفاق کے نائب سربراہ خليل مررزوق نے کہاکہ بحريني عوام کے خلاف سيکورٹي اہلکاروں کے حملےميں شدت اس بات کي علامت ہے کہ بحريني حکومت پوري طرح طاقت کے استعمال پر ہي يقين رکھتي ہے۔ خليل مرزوق نے کہا کہ ان تمام باتوں کے باوجود آل خليفہ حکومت جانتي ہے کہ اس کے پاس سياسي راہ حل کو قبول کرنے کے علاوہ اور کوئي چارہ نہيں ہے ليکن وہ سياسي راہ حل قبول کرنے کو تيار نہيں ہے حالانکہ وہ عوامي مظاہروں کے سامنے گھٹنے ٹيک چکي ہے انہوں نے بحريني عوام سے کہا ہے کہ وہ اس مرحلے ميں اپني استقامت و پائمردي کا سلسلہ جاري رکھیں۔ .......
/169