26 جولائی 2012 - 19:30

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ کس نے کہہ دیا کہ توہین عدالت کا قانون کالعدم قرار دینے سے آئینی بحران پیدا ہو جائے گا ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم پارلیمنٹ کی فیور کرتے ہیں اورپارلیمنٹ ہماری کرے۔

ابنا: توہین عدالت کے قانون کے خلاف درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سر براہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے موقع پر توہین عدالت کے قانون کی منظوری کے دوران پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ پڑھ کر سنایا گیا ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمانی کارروائی کو تحفظ حاصل ہے،،اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ،، لیکن پارلیمنٹ میں ہونے والے بحث کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے،،انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی کارروائی کےٹرانسکرپٹ سے بہت سی چیزیں سامنے آ ئی ہیں،، یہ کارروائی ہمارے لیے کسی مقدمے میں تشریح کا ایک ذریعہ ہے۔درخواست گزار شیخ احسن الدین نے کہا کہ ارکان پارلیمان نے توہین عدالت کا نیا قانون منظور کر کے اپنے حلف سے انحراف کیا۔ نئے قانون کی کارروائی عجلت میں مکمل کی گئی کیونکہ حکومت نے بارہ جولائی کو عدالت میں جواب دینا تھا. یہ قانون نئے وزیر اعظم کو توہین عدالت کی سزا سے بچانے کے لیے بنایا گیا ،جس میں توہین عدالت کی کارروائی سے بچنے کے طریقے بتائے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی بھی اس قانون کو بد نیتی پر مبنی قرار دے رہے ہیں ،یہ قانون خود توہین آمیز ہے ۔انہوں نے کہا کہ کیپٹن صفدر نے قومی اسمبلی میں تجویز دی تھی کہ حکومت عدلیہ سے رابطہ کرتی اور ان کو خط لکھتی۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم لوگ کوئی ان کے منشی تو نہیں ۔پارلیمنٹ اپنا کام کرتی ہے اورعدالتیں اپنا،،ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم پارلیمنٹ کی فیورکرتے ہیں اورپارلیمنٹ ہماری کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ عدالت کے دروازے کے باہرکیا ہورہا ہے۔ یہ کس نے کہہ دیا کہ قانون کالعدم قراردینے سے آئینی بحران پیدا ہوجائے گا،،کیس کی مزید سماعت کل ہو گی۔

.......

/169