بسم رب الشهدا=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=آنکھ کھول دیں اے میرے محبوب اے مستوں کے ساقی! اے علي=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=آجرك الله یا بقيۃ اللہ=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-

مجھے خبر ملی ہے کہ ان میں سے ایک نے ایک مسلمان عورت اور ایک غیر مسلمان عورت ـ جو اسلام کی پناہ میں تھی اور اس کی جان و مال محفوظ تھا ـ کے گھروں میں داخل ہوئے ہیں اور اس ذمی عورت کے پاؤں سے پازيب کھینچ لی ہے .... جبکہ ان کے پاس گریہ اور التماس کے سوا کوئی حربہ نہ تھا جس کے ذریعے وہ اپنا دفاع کرسکتیں. وہ بڑی غنیمت لے کر آئے ہیں بغیر اس کے ان میں کوئی زخمی ہوجائے یا کسی کے جسم سے ایک قطرہ خون نکلے اگر اس واقعے کی وجہ سے کوئی مسلمان تاسف کی شدت سے مر بھی جائے تو اس پر ملامت نہ ہوگی اور میرے خیال میں یہ مناسب اور بجا ہوگا. (نہج البلاغہ خطبہ 27).اے عدل کے کھڑے ہوئے اوقیانوس، یا مہدی ...اے زہراء (س) کے فرزند خلف... اے علی حاضر و موجود اور اے امام زمان! ... اٹھیں اور دیکھ لیں اور سن لیں آج ایک یہودی عورت کی پازیب کی بات نہیں ہے بلکہ پانچ ہزار مسلمان عورتوں پر درندوں کی زیادتی کی بات ہے؛ بات ان جنینوں (اور سقط شدہ بچوں) کی ہے جو ماؤں کی کوکھوں سے سے نکال دیئے جاتے ہیں.بات ان انسانوں کی ہے جو زندہ زندہ آگ میں جلادیئے گئے نہ ایک فرد اور نہ 10 افراد بلکہ 20 ہزار افراد ... ظهر الفساد في البر و البحر بما كسبت ايدي الناس؛ بحر و بر میں فساد ان (گناہوں) کے باعث پھیل گیا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کما رکھے ہیں؛ لوٹ کے آئیں میرے مولا!لوٹ کے آئیںلوٹ کے آئیں میرے آقا؛ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بدھ مت کے پیروکار امن پسند ہیں.یہ کہتے ہیں کہ "تمہیں دلائی لاما" کو امن پسند کی علامت قرار دینا چاہئے!" وہی جس نے مقبوضہ فلسطین میں قابض اور غاصب یہودیوں کا مہمان بن کر شمعون پیرز کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور "دیوار ندبہ کے سامنے کھڑے ہوکر شاید اس صورت حال کی آرزو کررہا تھا...

يا ابا صالح اي اے روز آدینہ کے منتظَر لوٹ کے آجائیںیہ جو برما میں خاک و خون میں تڑپائے جارہے ہیں یا آگ میں جلائے جارہے ہیں، مسلمان ہیں اور ان کے دل حب رسول (ص) سے سرشار ہیں.اے اللہ! یہ لوگ ہر روز پانچ اوقات میں تیری نماز برپا کرتے ہیں اے امام زمان ان کی مدد فرما جو گوکہ شاید آپ کو نہيں پہچانتے لیکن یہ آپ کے جد احمد مختار کی امت کے افراد ہیں. اے امام زمان! اس امت کے بے گناہ علی اصغروں کی حمایت کے لئے لوٹ کے آئیں...

لوٹ کے آئیں میرے مولاہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم آپ کے بغیر کچھ کرنے کے اہل نہیں ہیں، لوٹ کے آئیں...یہ دنیا آج فرزند علی و زہراء کے عدل و انصاف کی پیاسی ہےاے بے خانماں اور مظلوم مسلمانوں کے مولا! ان بیواؤں کی صدا سن کر اور بچوں کی فریادیں سن کر، لوٹ کے آئیں ...


آپ اس زمانے کے امام ہیں يابن اميرالمؤمنين لوٹ کے آئیں یہ مسلمان ہیں.

میرے مولا بات پا زیب کی نہیں بلکہ امت کی ناموس کی ہے. اس سے قبل مسلمان کہلوانے والوں نے پیروان اہل بیت کے ساتھ عراق، سعودی عرب، بحرین، شام اور پاکستان میں یہی سلوک کیا اور فرزندان تشیع کے ایسے ہی ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور آج برما میں عام مسلمانوں کو یہی دن دیکھنے پڑ رہے ہیں اور یہاں البتہ یہ طرز سلوک ایسے لوگ اپنا رہے ہیں جو مسلمان نہیں تو امن پسند کہلوا کر خوش ہوا کرتے ہیں اور یہود و نصاری انہیں امن کے نوبل انعامات سے نواز رہے ہیں... مولا جو لوگ اسلام کے نام پر آپ کے منتظرین کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں وہ اس قتل عام پر خاموش ہیں کیونکہ یہ ان کے آقاؤں کا منظرنامہ ہے وہی منظرنامہ جس کے تحت وہ آپ کے منتظرین کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔


میرے مولا! بدھ درندے طالبان اور القاعدہ کی طرح تلواریں اور خنجر لے کر، کسی مسلمان پر رحم کرنے کے بارے میں سوچتے تک نہیں ہیں کیونکہ انہيں معلوم ہے کہ دنیا کا نظام ان کے ہمدردوں کے ہاتھ میں ہے. لوٹ کے آئیں میرے مولا!مولاجان! آج کی اس جنگل نما دنیا میں اگر کسی یہودی کے کتے کو ہانک دیا جائے تو سلامتی کونسل قرار دادیں منظور کرتی ہے، لیکن اس ظلم عظیم کو دیکھتی ہے اور نہ ہی مظلوموں کی صدا سننے کے لئے تیار ہے.

آقا جان! آج یزیدی سرخ پوشوں کی بات نہيں ہے بلکہ بدھ سرخ پوش میدان میں اترے ہیں جن کے سامنے کوئی نہيں ہے جو انہیں منع کرے یا ان پر اعتراض کرے یا ان کے خلاف دفاعی پوزیشن سنبھالے. ...

آقا جان! مسز کلنٹن نے برما کا دورہ کیا اور ان کے آنے کا جشن منایا جانے لگا اور اب تک اس جشن میں 20 ہزار مسلمان قربان ہوچکے ہیں؛ کوئی بھی کچھ نہيں کہتا گویا کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔




مولا جان! یہاں بھی پاکستان اور عراق میں وہابی دہشت گردوں کی مانند، بدھ دہشت گرد ایک دوسرے کو مسلمانوں کے سروں کے تحفے دے رہے ہیں. مسز کیتھرین اشتون نے حال ہی میں فرمایا ہے کہ "برما پر لگی ہوئی تمام پابندیاں بہت جلد اٹھائی جائیں گی کیونکہ اس ملک نے اصلاحات کا آغاز کردیا ہے ....مولا جان! ہم اب اصلاحات کا مفہوم بھی سمجھ چکے ہیں! اصلاحات یعنی مسلمانوں کی نسل کشی...أَلا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَ لكِنْ لا يَشْعُرُوندیکھو یہ بلاشبہ مفسد (روئے زمین پر فساد پھیلانے والے) ہیں، لیکن اس کا شعور نہيں رکھتے.


آقا جان! یہاں پازیب کی بات نہیں ہے بلکہ ایک اور خیمہ سوزانی ہے کربلا کی مانند ... اصحاب اخدود کی بات ہے وہی جس کو یہ لوگ ہالو کاسٹ کا نام دیتے ہیں...


بات پازیب کی نہيں ہے بلکہ بات رخساروں پر اشک رواں کی ہے ...


آقا جان! یہاں پازیب کی بات نہیں بلکہ سروں پر آہنی عمود مارنے کی بات ہے...

آقا جان! یہاں بات پازيب کی نہيں بلکہ کٹے ہوئے گلوں کی بات ہے ... اگر کہیں سر نیزوں پر چڑھائے جاتے تھے تو یہاں نیزوں سروں میں چبھوئے جاتے ہیں ... یہاں مسلمانوں پر پانی کی بندش کی بات نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو پانی میں ڈبویا جارہا ہے ...

آپ کو خون میں خضاب شدہ داڑھی کا واسطہ! آپ کو قسم ہو مٹی پر پڑے رخساروں کا واسطہ! آپ کو ٹوٹی ہوئی پیشانی کا واسطہ! لوٹ کے آئیں...لوٹ کے آئيں، بس آپ لوٹ کے آئیں کیونکہ آپ کے آنے کے سوا کوئی چیز ہمیں چین نہيں دے گی ...شام کی سرزمین، عراق کی سرزمین، بحرین کی سرزمین، حرمین کی سرزمین، یمن و مصر و پاکستان کی سرزمینیں سب آپ کا انتظار کررہی ہیں. آپ کے ظہور کی امید رکھتا ہوں اے میرے سید و سرور اے حجت رب العالمین! آپ کے ظہور کی امید رکھتا ہوں! بے شک آپ کا ظہور ہر دن گذرنے کے ساتھ ایک دن قریب تر ہورہا ہے اور امید ہے کہ یہ ساری بلائیں آپ کے ظہور کی نشانیاں ہوں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
برما میں خون کی ہولی؛ معاف کرنا یہ تصویریں فرض سمجھ کر پیش کی جارہی ہیں