25 جولائی 2012 - 19:30

قارئین بھی میری طرح یہ سمجھ رہے ہونگے کہ کہانی یہاں پر ختم ہوئی ہے۔ میں بھی سمجھ رہا تھا کہ کہانی کا یہی اختتامیہ ہے، لیکن ایک اطلاع کے بعد اندازہ ہوا کہ ابھی کہانی دراز ہے۔ ابھی بہت کچھ ہونے والا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں 48 سرکاری ملازمین جس میں اکثریت کا تعلق کچورا سے ہے، کے خلاف انکوئری طلب کی ہے۔ ایک اور ذرائع کے مطابق ان تمام ملازمین کو سسپنڈ کرنا چاہتی ہے۔ لگتا ہے کہ مقامی انتظامیہ کے منہ پر جو طمانچہ پڑا ہے وہ کسی نرم ہاتھ سے پڑا ہے، اب جو پڑے گا اس تھپڑ کی صدا شاید ملک بھر میں گونج اٹھے۔

ابنا: جوں جوں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کا قافلہ اسکردو شہر سے قریب تر ہوتا گیا، حکومت مخالف نعروں کی گونج میں اضافہ یقینی تھا۔ ادھر مختلف بہانوں سے جمع کئے گئے چند افراد جو یادگار چوک پر براجمان تھے، انہوں نے کسی صورت یادگار شہداء اسکردو کو خالی نہ کرنے کا اعلان نہایت استقامت اور بہادری کے ساتھ کیا تھا۔ راجہ صاحب کے قافلے کی طرف بھی مختلف فرشتے (ایجنسیوں کے اہلکار) وقتاً فوقتاً نازل ہوتے رہے، جن کا مخلصانہ مشورہ تھا کہ تصادم کا خطرہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ جیالوں نے اسلحے کے زور پر جلسے کو ناکام بنانے کی دھمکی بھی دی ہے۔ لہٰذا مناسب نہیں کہ آپ یادگار شہداء کی طرف جائیں۔ بہتر ہے علمدار چوک اسکردو کی طرف قافلے کو موڑ کر اختتام کریں۔ فرشتے آتے اور آکر پیغام سناتے، قافلہ والوں کی ہمت و ارادہ کو جانچ کر ہیڈ آفس جاتے اور اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کی گذارش کرتے۔ یہ سلسلہ کچھ دیر جاری رہا۔ اب جب کہ صوبائی حکومت نے ایک بڑی غلطی کی تھی جس کی پاداش میں ہر معتدل انسان، ہر باضمیر انسان شاکی تھا اور شہر حکومت مخالف نعروں سے گونج رہا تھا۔ وزیراعلٰی صاحب گذشتہ رات روڈ بلاک ہونے کے سبب پانچ گھنٹے سے زائد شگر میں پھنس بھی گئے تھے۔

کھرمنگ میں تین ماتمی دستوں کو ضم کرکے ہزاروں اہل تشیع نے دھرنا دیا، اس موقع پر مقررین نے بہ بانگ دھل اعلان کرکے کہا تھا کہ اگر علامہ ناصر عباس کی توہین کی جسارت کی گئی تو صوبائی حکومت یہ بھول جائے کہ تمہاری حکومت میں ہم اس ملک کے شہری بھی تھے۔ اس صورت میں ہمارا ہاتھ اور تمہارا گریبان ہوگا۔ کھرمنگ میں حکومتی متعین اے سی پر جوانوں کی شاید قہر آلود نظریں اٹھی ہونگی کہ علماء کو اپنا لہجہ نرم کرنا پڑا اور صبر کی تلقین کرنی پڑی۔ کھرمنگ کے علاوہ روندو کے غیور اہل تشیع نے بھی شاہراہ کو بند کرکے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ روندو سے ایک قافلے نے اسکردو شہر کی طرف بڑھنے کی جب تیاریاں شروع کی تو اسکردو کے اہل تشیع نے ان کو روکا اور پیغام دیا کہ وہاں حالات سے نمٹنے کے لئے کافی لوگ ہیں۔ البتہ چند جوانوں نے فرط جذبات سے بے قابو ہوکر پی پی پی کے مقامی ایم ایل اے جو بغیر کسی مبالغے کے شریف النفس ہیں، کے ساتھ بھی اظہار محبت کیا۔

ادھر ان ہی دنوں آئی ایس او بلتستان ڈویژن کے سالانہ اسکاوٹنگ کیمپ مین ساڑھے تین سو سے زائد جوانوں کے کانوں تک یہ خبر پہنچی تو اسکاوٹس نے انگڑایاں لینا شروع کیں، ویسے بھی جلسہ، جلوس، احتجاج، مظاہرہ اور دھرنا تنظیمی برادران کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے۔ پھر اس پر یہ کہ کسی مہمان عالم دین کے ساتھ شیعہ اکثریتی علاقہ میں ایسا سلوک ہو، یہ واقعہ سوئے ہوئے شیروں کو جگانے کے مترادف تھا۔ لیکن ان شیروں کو کیمپ چھوڑ کر نیچے آنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی لیکن تمام تر رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے پچاس سے زائد جوان اسکردو پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ جب پی پی کے جیالوں کو یقین ہوا کہ اہل تشیع یادگار چوک پہ تمام حربوں کے باوجود آ رہے ہیں، تو وزیراعلیٰ نے فوری طور پر یادگار شہدا پہ حاضری دے کر کہا کہ ہم عدم تشدد کی پالیسی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ پنجاب سے یہاں آکر بڑی بڑی باتیں کرنے والا چوکیدار تک بھرتی نہیں سکتا۔ اس جملے پہ عوامی سطح پر ایک میسج بھی چلا تھا جس میں کہا گیا کہ چوکیدار بھرتی کرنا موصوف کا کام ہے علامہ صاحب کا نہیں۔

 یہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت کے دو کام قابل تحسین ہیں، ایک چوکیداروں کی بھرتی اور دوسرا میٹرک پاس نان پروفیشنلز کی محکمہ تعلیم میں چند لاکھ روپوں کے عوض بطور ٹیچر بھرتی۔ بہر کیف وزیراعلٰی کے سامنے پچاس سے ساٹھ جیالے (یہ تعداد ایک مقامی اخبار نے بھی درج کی ہے) حاضری لگوانے اور نوکریاں اور ٹھیکے پکے کرانے کے بعد رفو چکر ہوگئے۔ مہدی شاہ کے وہاں آنے کا ایک فائدہ چند مرحوم مقامی اخبارات کو بھی ہوا، جن کا کام اشتہارات کی خاطر حکومت کے تلوے چاٹنا ہے۔ انہوں نے حکومت مخالف اجتماع کو حکومت کی حق میں بنا کر پیش کیا۔ اس سے اہل تشیع کی صحت پر کوئی اثر تو نہیں پڑا، البتہ آزاد صحافت کے کھوکھلے دعووں کی قلعی کھل گئی۔ اس سے قبل بھی چوڑا ہوکر چلنے والے صحافی، گلگت بلتستان کے مقبول عوامی ہفت روزے، مظلوموں کی آواز ایوانوں تک پہنچانے والے، حقیقت، سچائی اور غیر جانب داری کے ساتھ فروغ صحافت میں مصروف اخبارات، کے تمام تر دعوے سانحہ چلاس کے بعد دھرے کے دھرے رہ گئے تھے، جب شیعہ وزیراعلٰی نے سانحہ چلاس سے متعلق تمام خبروں پر پابندی عائد کی تھی۔ البتہ چلاس کے قاتلوں اور دہشتگردوں کی خبروں کو کوریج تو ملتی رہی۔ شاید فیض کے بقول ’’ہے سنگ و خشت مقید اور سگ آزاد‘‘

حد تو یہ ہے ایک مرتبہ پریس کلب اسکردو میں سانحہ چلاس کے خلاف ایک مذہبی تنظیم نے پریس کانفرنس کی، اس کی کوریج کسی بھی مقامی اخبار میں نہیں آئی۔ اس کے اگلے روز چلاس کے قاتلوں نے جو احتجاج کیا، اس کی خبر بڑی شد و مد کے ساتھ اخبارات کی زینت بن گئی۔ اس میں کیا شک کہ ’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘

جب یہ ٹھاٹھیں مارتا ہو سمندر یادگار شہداء اسکردو پہنچا تو ماحول پہ لرزہ طاری ہوگیا۔ علامہ ناصر عباس جعفری کو جوانوں نے حصار میں لے کر راجہ تیرا ایک اشارہ، حاضر حاضر لہو ہمارا کے نعروں کے ساتھ یادگار شہداء اسکردو کے مینار کے سامنے پہنچایا۔ یادگار شہداء اسکردو ایک سوالیہ نشان ہے، عوام کے لئے، حکومت پاکستان کے لئے، انسانی حقوق کی دم بھرنے والی تنظیموں کے لئے کہ سینکڑوں جوانوں نے نہتے، ڈوگرہ راج کے ساتھ جنگ لڑ کر اپنا پاک لہو 1948ء میں دیا، لیکن اس کا کیا صلہ ملا؟ ڈوگرہ راج کو غیرت کے بل بوتے پر مار بھگا کر پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا، اس کے باوجود یہ علاقہ متنازعہ کیوں ہے۔؟ 63 سال بعد بھی جو تشخص ملا ہے، اس میں نہ مردوں والی صفت ہے اور نہ عورتوں والی یعنی مخنث صوبہ کیوں ہے۔؟ یہ عجیب فلسفہ ہے۔

پاکستان کے چار صوبے پانچ وزیراعلٰی اور پانچواں وزیراعلٰی اختیارات کے لحاظ سے چیف سیکریٹری کے نیچے، پھر اس پر یہ لطیفہ کہ پی پی پی وزراء اس علاقے کو متنازعہ قرار دیتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس عجیب و غریب صوبے کا وزیراعلٰیٰ مجلس وحدت مسلمین پاکستان جو شیعہ قوم کی سب سے بڑی سیاسی و مذہبی جماعت بن چکی ہے، کے سیکریٹری جنرل جس کے ایک اشارہ پر دنیا بھر میں لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہوں، کے خلاف علاقہ بدری کے احکامات ۔ ۔ ۔؟ شاید اسی موقع پہ کہا جاتا ہے عجب ثم العجب۔ ۔ ۔

علامہ ناصر عباس جعفری کے خطاب سے قبل علامہ سید علی رضوی نے ہاشمی لب و لہجہ میں خطاب کیا۔ انہوں نے اس واقعے کو اہل بلتستان کے ماتھے پر بدنما داغ قرار دیا۔ علامہ سید علی رضوی نے کہا کہ یہ جگہ یادگار شہداء ہے، شہداء کے ساتھ غداری کرنے والوں کی جگہ نہیں ہے۔ ہم پہلے بھی یہاں آتے تھے، اب بھی آئیں ہیں، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں یہاں آنے سے نہیں روک سکے گی۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم نے اسکردو کے امن کو تباہ و برباد کرنے کے لیے ایسا اقدام کیا، یہ تمہاری آخری غلطی ہونی چاہیے، اب کے بار ایسی غلطی کی تو تم پر بلتستان کی زمین تنگ ہو جائے گی۔ اس موقع پر لوگ جب کھڑے ہو کر جذبات میں نعرہ بلند کرنے لگے تو مجھے یہ نظم یاد آئی،

سعی بقائے شوکت اسکندری کی خیرماحول خشت بار میں شیشہ گری کی خیرفاقہ کشوں کے خون میں ہے جوش انتقامسرمایہ کے فریب جہاں پروری کی خیرطبقات مبتذل میں ہے تنظیم کی نمودشہنشاہوں کے ضابطہ خودسری کی خیراحساس بڑھ رہا ہے حقوق حیات کاپیدائشی حقوق ستم پروری کی خیر

جب سید علی رضوی نے علامہ ناصر عباس جعفری کو خطاب کی دعوت دی تو لوگوں نے کھڑے ہوکر لبیک یاحسین (ع) کے نعروں سے استقبال کیا۔ علامہ صاحب نے اپنے خطبے کا سرنامہ امام حسین (ع) کے نورانی خطبے کو قرار دیا۔ کہا کہ یزید رجل فاسق فاجر شارب الخمر مثلی لا یبایع مثلہ۔ میرے مولا امام حسین (ع) نے فرمایا ہے کہ یزید فاسق آدمی تھا، شرابی تھا، مجھ جیسا اس جیسے کی کبھی بیعت نہیں کرسکتا۔ دوستوں میرے پاس الفاظ نہیں کہ آپ کا شکریہ ادا کروں، خدا شاہد ہے کہ میں آپ مومنین کو زحمت میں ڈالنے کے لئے نہیں آیا تھا، بلکہ اسد عاشورا کے سلسلے میں مجالس کے لیے آیا تھا۔ آپ سب نے بہت عزت دی۔

آپ سب کو بہت زحمت ہوئی، بالخصوص کچورا کے مومنین جنہوں نے ساری رات دھرنا دیا۔ آج صبح مومنین اتنی مسافت طے کرکے کچورا سے یہاں آئے، میں ایسا نہیں چاہتا تھا۔ خدا کی قسم میں ایسے ہتھکنڈوں سے خوف کھانے والا نہیں ہوں۔ میں نے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی (رہ) کے ساتھ کام کیا ہے۔ میں مہدی شاہ کو خاطر میں ہی نہیں لاتا۔ میں ان کو اپنا دشمن ہی نہیں سمجھتا۔ انہیں چاہئے تھا کہ چلاس کے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا سرکولر جاری کرتے، نہ کہ میرے خلاف۔ اگر چاہتا تو پورے ملک میں پی پی پی کے دفاتر کا گھیراؤ ہوتا۔ عجیب ہے یہاں کا وزیراعلٰی، سنا ہے یہ اولاد رسول بھی ہے، شیعہ بھی ہے، شاہ صاحب بھی ہے، نہیں معلوم یہ کیسا شیعہ ہے۔؟ سنا ہے یہاں پر تھوڑی دیر پہلے مہدی شاہ اپنے جیالوں سے خطاب کرکے گیا ہے، مظلوموں کے حق میں خطاب کرنے کی توفیق انہیں نہیں ہوتی۔ میں یہاں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پی پی پی سے ہماری دشمنی نہیں، مخالفت ضرور ہے۔ پی پی پی میں مہدی شاہ جیسی سمجھ کے لوگ جب تک موجود ہیں، پی پی پی کو دشمن کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ علامہ ناصر عباس جعفری نے ملک میں جاری منظم شیعہ کشی کی مذمت بھی کی۔

علامہ ناصر عباس جعفری کے بعد آغا مظاہر حسین موسوی نے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا اور کہا کہ عجیب وزیراعلٰی ہے ہمارا، جو اداکاروں کو ہنی مون کے لئے اسکردو کی دعوت دے دیتا ہے، لیکن عالم دین پر علاقہ بدری کے احکامات نافذ کرتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ابھی یہ قافلہ سکمیدان لنک روڈ سے ہوتا ہوا علمدار چوک تک آغا ناصر عباس کو پہنچانے جائے گا اور وہاں سے سب لوگ خدا حافظی کرکے گھروں کا رخ کریں گے۔ اب چونکہ جس علاقے سے گزرنا تھا یہ وہی علاقہ ہے جہاں مہدی شاہ کے اجداد کشمیر سے آکر آباد ہوئے تھے، جہاں مہدی شاہ نے دو زانوں چلنا سیکھا تھا۔ اسی محلے میں وہ خوبصورت زندگی گزاری ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگا سکتا۔ جس میں ریت کے گھر بنانا اور اتنی انہماک کے ساتھ بنانا کہ اگر کسی کی پاؤں وہاں لگ جائے تو اسے اپنا ازلی دشمن سمجھنا، ویسے موصوف اس وقت بھی ریت کے گھر تعمیر کرنے میں مصروف ہیں، البتہ ان کے اردگرد رہنے والے آر سی سی کی عمارتیں کھڑی کرنے میں مصروف ہیں۔

ذکر ہو رہا تھا سکمیدان میں موصوف نے آنکھ کھولی، وہاں چلنا سیکھا، لڑکپن کے ایام گزارے، نوجوانی کا سنہرا دور گزارا، جوان ہوئے، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سیاست کے تنگ و تاریک راستے میں چل نکلے اور آج اسی سکمیدان سے موصو