ابنا: ہر سال کی طرح اس سال بھی بلتستان بھر میں اسد عاشورا نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جو پرامن طور پر اختتام پذیر بھی ہوا۔ حسب سابق امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان بلتستان ڈویژن کے زیراہتمام اسکردو میں حسینی چوک پر مجلس عزا کا اہتمام ہوا۔ مجلس عزا سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے خطاب کیا جس سے ایوانوں میں لرزہ طاری ہوگیا، قصر سلطانی میں بھونچال آگیا۔ علامہ ناصر عباس اپنے لہجہ ابراہیمی میں جب گہربار ہوئے تو ایک طرف ایوانوں میں ہلچل مچ گئی تو دوسری طرف اسکردو کی فضا لبیک یاحسین (ع) کی صداؤں سے گونج اٹھی۔ علامہ جعفری نے اپنے خطاب میں سانحہ چلاس کے قاتلوں کی عدم گرفتاری، مطالبات کی نامنظوری، شیعیان حیدر کرار پر روا ظلم و ستم پر حکومت سے سوال کیا اور کہا کہ آئندہ کوئی شیعہ کسی فاسق، شرابی اور ظالم کو ووٹ نہیں دے گا۔
شاید یہ بات جمہوریت کے نرم و گداز صوفے پر براجمان، دنیا کے نئے عجوبہ، صوبے کے حاکم، پی پی پی کے دیرینہ جیالے، بھٹو کے سپاہی، مرحومہ بینظیر کے بھائی، سید مہدی شاہ کے طبع نازک پہ گراں گزری، انہوں نے سولہ ایم پی او کے تحت علامہ ناصر عباس کو علاقہ بدر کرنے کے احکامات ڈی سی اسکردو فضل خالق کے ذریعے جاری کروائے۔ اس حکم نامے کے مطابق اسکردو پولیس نے علامہ ناصر عباس کو گرفتار کرکے علاقہ بدر کرنا تھا۔ اٹھارہ جولائی کی شام کو جب یہ پروانہ لے کر مقامی ایس ایچ او علامہ ناصر عباس جعفری کا پتہ پوچھتے پوچھتے کچورا پہنچے تو اسکردو شہر میں بعض کارکنان کو حالات کی نزاکت کا اندازہ ہوا، اگرچہ انتظامیہ نے خفیہ طور پر کارروائی عمل میں لانے پر تاکید کی تھی۔ یہ حکم نامہ سید مہدی شاہ کی عجیب بوکھلاہٹ کا شاہکار تھا کیونکہ ویسے بھی علامہ جعفری نے اگلے روز واپس اسلام آباد جانا تھا۔
بہرکیف جب پولیس علامہ ناصر عباس کی علاقہ بدری کے احکامات لے کر کچورا پہنچی تو حالات ایک عجیب تاریخی موڑ پر ایستادہ انگشت بدندان تھے۔ کیونکہ تاریخ میں ذکر حسین (ع) اور پیغام حسین (ع) کو لے کر یک و تنہا کوفہ میں جانے والے کے خلاف بھی وقت کی حکومت نے حکم صادر کیا تھا اور گرفتار کرکے دارالامارہ تک لے گئے تھے۔ بہر حال یہاں کیفیت مختلف تھی۔ کچورا اسکردو کے عوام کو جب یہ خبر پہنچی کہ پولیس علامہ ناصر عباس کو گرفتار کرنا چاہتی ہے، تو تمام لوگوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور وہ دوڑتے ہوئے پولیس وین کے قریب پہنچ گئے۔
ادھر ایس ایچ او اپنے جوانوں پر نازاں، خراماں خراماں جب علامہ ناصر عباس کی طرف بڑھنے لگا، تو عوام نے انہیں روکنے کی کوشش کی، لیکن انہیں علماء سے زیادہ شاید اپنی وردی پر ناز تھا، کہا کہ ہم نے علامہ جعفری کو گرفتار کرکے دم لینا ہے۔ انہوں نے اپنے جوانوں کو آگے بڑھنے کا جیسے ہی حکم دیا، ایک مقامی عالم دین کا ہاتھ شاید اس کی طرف بڑھا۔ اسی بات کی دیر تھی کہ جوانوں نے پولیس کی گاڑی پر دست شفقت پھیرنا شروع کر دیئے کہ جس میں علامہ جعفری کو بٹھا کر لے جانا تھا۔ اگر مقامی علماء بروقت مداخلت نہیں کرتے۔ تو دونوں گاڑیاں راکھ بن جاتیں۔
اسی دھکم پیل میں پی پی پی کے ایک ایم ایل اے کے ساتھ بھی جوانوں نے اپنی محبت کا اظہار کیا، جو تقریر کرکے اپنی ساکھ کو برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ موصوف سے نہ صرف مائیک چھین کر دھکے دیئے گئے بلکہ ان کے خلاف غداری کے خوب نعرے بھی لگے۔ انہوں نے انہی دھکوں سے فائدہ اٹھا کر اچھے بچوں کی طرح دائیں بائیں دیکھے بنا سیدھی اپنے گھر کی راہ لی۔ موصوف عوام کی دکھتی نبض پر ہاتھ رکھ کر اپنے پرجوش خطاب میں کہنے لگے تھے کہ جس نے علامہ صاحب کی علاقہ بدری کے احکامات جاری کئے ہیں ان پر لعنت ہو۔ اس جملے کے بعد انہوں نے شاید کچھ اور کہنا تھا، ہوشیار لوگ بھانپ گئے اور شاید یہی کہہ کر چلتا کر دیا کہ ہمارے کام کی باتیں تم نے کیں، اب تمھارے کام کی باتیں ہمیں نہیں چاہیں۔
اس دوران جوانوں نے اپنے بازوں میں طاقت شاید کچھ زیادہ ہی محسوس کی ہوگی کہ پولیس کے پاس جان بچانے کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہیں رہا۔ لوگوں نے کچورا جانے والے راستے کو بلاک کر دیا اور اگلی صبح تک دھرنا دیا، جس کا فائدہ یہ ہوا کہ پولیس گاڑیوں سمیت ساری رات کچورا میں پھنس گئی، کھانا پینا تو یقیناً ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے، لیکن جہاں جان کے لالے پڑے ہوں تو وہاں سے رات کے آخری پہر کچورا سے پیدل بھوکا پیاسا اسکردو کا رخ کرنے میں شاید اپنی عافیت سمجھی اور ایسا ہی کیا۔ جب یہ خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تو ملک کے بڑے شہروں کے علاوہ بلتستان کے اہم مقامات، جن میں کھرمنگ، خپلو، شگر، روندو، گمبہ اسکردو، گول، تھورگو کے علاوہ اسکردو شہر میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، ٹائر جلائے اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دی۔
اسکردو یادگار شہداء پر جب جوانوں نے احتجاجی مظاہرے کا آغاز کیا اور نعرہ لگائے تو وزیراعلٰی کے چند ملازمین نے احتجاج کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق چند جیالوں نے غیر قانونی اسلح کی بھی خوب نمائش کی، لیکن مجلس وحدت مسلمین کے کارکنان نے مقررہ وقت تک اپنا احتجاج جاری رکھا اور اپنے آخری پیغام میں کہا کہ کل دن کے اجالے میں کسی کو مقابلے کی جرات ہے تو آجائے۔ کسی پہ ہاتھ اٹھانے کی جرات تو نہ ہونی تھی اور نہ ہوئی، البتہ مہدی شاہ کے غنڈوں نے ایک مدرسے کے طالب علم جس نے مظاہرے میں خطاب کیا تھا کا پیچھا کرکے ان پر دست درازی کی، جس کی اطلاع بھی بعد میں ملی۔
رات کو انتظامیہ کے ہنگامی اجلاس میں علاقہ بدری کے احکامات کو واپس لینے کا فیصلہ ہوا۔ لیکن مجلس وحدت مسلمین کے کارکنان کسی طرح کے مذاکرات میں بیٹھنے کے لئے نہ صرف تیار نہیں تھے بلکہ ان کا چیلنج تھا کہ اگر مقامی حکومت میں اتنا دم خم ہے تو علامہ صاحب کی طرف بڑھ کر دکھائیں۔ کیونکہ ان کو علم تھا کہ مقامی حکومت پاکستان کی دشمن طاقتوں اور دہشتگردوں پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں کر سکتی ہے تو ایک مذہبی عالم دین، جری، محب وطن، اہل تشیع کی طاقت کے مظہر شخص پر بے جرم و خطا ہاتھ ڈالنا ان کے بس کی بات نہیں۔
بقول محسن نقوی کہ اگر حسینی سے الجھنا ہے تو کم از یزید جتنا حوصلہ رکھو کہ قیامت تک لعنت برداشت کرسکو۔ رات کی سیاہی جب ٹل گئی تو شہر بھر سے عوام نے کچورا کا رخ کیا، کیونکہ صبح علامہ ناصر عباس جعفری نے اسکردو شہر آکر یادگار شہدا پر خطاب کرنا تھا۔ بیسیوں ہزار لوگ، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر صبح سویرے کچورا پہنچ گئے۔ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر پیدل اور گاڑیوں کے ساتھ قافلہ کی صورت میں روانہ ہوا تو یہ حقیقت ہے کہ ریلی کا سر اور اختتامیہ کوشش کے باوجود نظر نہیں آیا، تا حد نگاہ عوام اور گاڑیاں تھیں۔ جب قافلہ روانہ ہوا تو اسکردو کی فضا لبیک یاحسین (ع) کی فضاؤں سے گونج رہی تھی۔
اسی اثناء میں پیپلز پارٹی کے چند جیالوں نے یادگار شہداء کو خالی پاکر ڈیرے جمالئے تھے، چونکہ سارے ایم ڈبلیو ایم کے تمام کارکنان کچورا گئے ہوئے تھے۔ موقع غنیمت جان کر بھٹو کے سپاہیوں نے خوب اچھل کود کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ آج کچھ بھی ہو جائے ہم نے یادگار پر قبضہ رکھنا ہے خواہ اس راہ میں جان چلی جائے۔ چند جیالوں کا کہنا تھا کہ ہم یا مریں گے یا ماریں گے، لیکن مہدی شاہ کے خلاف یادگار چوک پہ کسی کو کچھ بولنے نہیں دینگے، رات کو ہم نے بہت برداشت کیا ہے۔ ایک کے بعد ایک جیالا اس عزم کا اعادہ کرتا اور اپنی نوکری پکی کرتا رہا۔ دوسری طرف جب یہ قافلہ گمبہ اسکردو پہنچا تو وہاں موجود گمبہ کے غیور ہزاروں اہل تشیع نے پرتپاک استقبال کیا اور نعروں کی گونج میں یادگار شہداء اسکردو روانہ ہوئے۔
.....
/169