ابنا:سانحہ چلاس جیسے واقعات جو انسانی تاریخ میں ایک بدنما داغ کی حیثیت رکھتے ہیں، کے بعد بھی قاتلوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ لیکن گذشتہ دنوں علامہ ناصر عباس جعفری کی علاقہ بدری کے احکامات کے خلاف اسکردو میں جو حکومت مخالف مظاہرے ہوئے ان میں شرکت کرنے کے الزام میں اسکردو کے 49 اہل تشیع جو سرکاری ملازمتوں پر فائض تھے، کو معطل کر دیا گیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق یہ ایک انتقامی کارروائی ہے جو کہ مہدی شاہ اور اس کے ساتھیوں نے محض اپنی ضد کی تکمیل کے لئے کی ہے۔ اطلاع کے مطابق معطل ہونے والوں میں اکثریت کا تعلق کچورا سے ہے۔ ان میں سے 15 کا تعلق محکمہ تعلیم سے، 14 کا این اے پی ڈبلیو ڈی سے جبکہ باقی ملازمین کا تعلق دیگر سرکاری محکموں سے ہے۔
.......
/169