ابنا: خبروں ميں بتايا جارہا ہے کہ بوڈ قبائل اور مسلمانوں کے درميان فرقہ وارانہ فسادات ميں چرنگا کے علاقے ميں مزيد تين لاشيں ملي ہيں اور اب فسادات کي آگ رياست کے گيارہ اضلاع کے پانچ سو گاؤں تک پھيل گئي ہے۔ حکومت نے فسادات سے متاثرہ علاقوں کے چار اضلاع ميں نيم فوجي مليشيا کے تيرہ ہزار جوانوں کو تعينات کرديا ہے جبکہ فوج نے فساد زدہ علاقوں ميں فليک مارچ کيا ہے۔منگل اور بدھ کي درمياني رات چرنگا ضلع کے پانچ گاؤں آگ ميں جلتے رہے جن کے دوران ستر مکانات جل کر راکھ ہوگئے۔يہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب گذشتہ جمعرات کو بوڈو قبائل سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوانوں نے تين مسلم طلباء کو گولي مار کر ہلاک کرديا تھا۔فساد سے سب سے زيادہ متاثر ہونےوالے ضلع کھوکرا جھار ميں فوج کو تعينات کرديا گيا ہے مگر متاثرہ علاقوں ميں انتظاميہ حالات پر قابو پانے ميں اب تک ناکام رہي ہے۔حکومت نے کرفيو کے دوران فساديوں کو ديکھتے ہي گولي مار دينے کا حکم دے ديا ہے رياستي حکومت نے مرکزسے مزيد پچاس ہزار نيم فوجيوں کي مدد طلب کرلي ہے بے گھر ہونےوالوں کے لئے پناہ گزين کميپ بنائے گئے ہيں مگر وہ ناکافي ہيں۔وزير اعظم منموہن سنگھ نے حالات پر فوري طور پر قابو پانے کي ہدايات جاري کي ہیں۔
.......
/169