ابنا: سماعت کے دوران اٹارني جنرل عرفان قادر نے موقف اختيار کيا کہ عدالتي حکم پر عمل نہيں ہوسکتا، پہلے ايک وزيراعظم کو غير آئيني طور پر گھر بھيج ديا گياہے- عدالت کے روبرو اٹارني جنرل نے کہا کہ عدالت کا 12 جولائي کا حکم پہلے والے حکم سے مطابقت نہيں رکھتا، سپريم کورٹ کسي نيب افسرکو ہدايات نہيں دے سکتي، اين آر او کيس کے عدالتي فيصلے ميں بڑي خامياں ہيں –سماعت کے اختتام پر جسٹس آصف کھوسہ نے ريمارکس ديئے کہ آصف علی زرداری ہمارے بھي صدر ہيں ، اگر انہيں عالمي استثني حاصل ہے تو عدالت مدد کرنے کو تيار ہے-واضح رہے کہ اس سے قبل عدالت نے وزیر اعظم کوعدالت کے احکامات پرعمل کرنے کےلئے 25جولائي تک کي مہلت دي تھي - اين آر او عمل درآمد کيس کي سماعت 8 اگست تک ملتوي کر دي گئي ہے -
.......
/169