اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق برما کے مغربی علاقے "آراکان" میں، بظاہر سیکولر حکومت اور بدھ دہشت گردوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے، مردوں اور بچوں کو زندہ جلایا جاتا ہے یا پھر انہيں پھانسی دی جاتی ہے اور پھر آگ میں جلا دیا جاتا ہے یا بازاروں میں پکڑ کر ان پر تیل چھڑکا جاتا ہے اور آگ لگائی جاتی ہے اور عالمی برادری خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ برما کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ حکومت برما مسلم نسل کشی میں مصروف ہے۔ یاد رہے کہ آراکان کا علاقہ برمی بدھ مت کے پیروکاروں نے اٹھارہویں صدی میں غصب کررکھا ہے اور جب برما برطانیہ سے آزاد ہوا تو اس علاقے کے پانچ لاکھ مسلمان ہجرت پر مجبور ہوئے۔ برما میں قتل ہونے والے مسلمانوں کی صحیح تعداد معلوم نہيں ہوسکی ہے لیکن بعض رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک ایک ہزار افراد قتل کئے جاچکے ہیں، ان کی خواتیں کی بے حرمتی ہوئی ہے، سینکڑوں افراد کو اغوا کیا گیا ہے جن کی قسمت کا فیصہ اغواکاروں کے ہاتھ میں ہے اور ہزاروں افراد بنگلہ دیش کی سرحدوں کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں جہاں بنگلہ حکومت انہيں پناہ دینے سے معذرت کررہی ہے۔ برما 1948 تک انگریزی استعمار کے زیر تسلط تھا اور اس زمانے سے مسلسل فوجی بغاوتوں کا شکار رہا ہے اور اس ملک میں بھی انگریزی استعمار سے آزاد ہونے والے اکثر ممالک کی مانند، عوامی حقوق اور جمہوریت پنپ نہیں سکے ہیں۔

مسلم خواتین کے ساتھ زيادتی اور مسلمانوں کا قتل عامبرما کے ایک مسلمان سیاسی و سماجی کارکن "حمد نصر" نے برما میں انسانیت کے خلاف جرائم کے بارے میں کہا ہے کہ بدھ نیم فوجی دہشت گردوں نے صرف ایک حملے میں آراکان کے علاقے میں 20 مسلم دیہاتوں کو نذر آتش کیا اور 1600 گھر منہدم کردیئے اور ہزاروں افراد کو گھر بار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا۔ انھوں نے سرکاری افواج کی آنکھوں کے سامنے مسلمانوں کے گاؤں کے گاؤں جلادیئے۔ نصر کا کہنا تھا کہ ان دیہاتوں سے ہجرت پر مجبور کئے جانے والے افراد نے ہر وسیلے سے استفادہ کرکے سمندر کے راستے برما سے بھاگنے کا انتظام کیا اور بڑی تعداد میں لوگ بنگلہ دیش میں داخل ہوگئے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق برمی افواج بنگلہ دیش کی سرحدوں کے قریب اکٹھے ہونے والے مسلمانوں پر شدید حملے کررہے ہیں اور سرکاری فورسز ہنگامی حالت کے بہانے نوجوانوں کو گروہ در گروہ گرفتار کرتی ہیں اور خواتین کو آشکارا طور پر جارحیت کا نشانہ بناتی ہیں۔ خاتون امن (!) کی خاموشی!آن سان سوچی کو اس زمانے میں بین الاقوامی سطح پر فعال خاتون سمجھا جاتا ہے جس کو امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا ہے (!؟) مسلمانوں پر برمی حکومت اور بدھ دہشت گردوں کے حملوں اور انسانیت کے خلاف ان کے جرائم پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق، حال ہی میں جب آن سان سوچی سے جنیوا میں مسلمانوں کے قتل عام کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے "عذر گناہ بدتر از گناہ" کے طور پر کہا: مجھے نہيں معلوم کہ روہینگینا مسلمان برما کے باشندے ہیں یا نہیں؟!پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ برما کے مسلمانوں کو ان گروہوں کے زمرے میں قرار دے چکی ہے جو دوسروں سے زیادہ، آزار و اذیت کا شکار ہوئے ہیں۔ سنڈے ٹائمز: مسلمانوں کو سولی پر چڑھاکر قتل کررہے ہیںگذشتہ دو سالوں کے دوران برما کے مظلوم مسلمانوں پر روا رکھے جانے والے مظالم اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے بھی اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ اس ملک کے فوجی مسلمان مردوں کو زدوکوب اور قتل کرتے ہیں اور مسلم خواتین کو سر عام جارحیت اور جنسی زيادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور مردوں کو مصلوب کرکے قتل کرتے ہیں۔ سنڈے ٹائمز کے مطابق، ہر روز برما کے بھاگتے ہوئے مسلمان عجیب اور ہولناک واقعات کا سامنا کرتے ہیں اور برمی افواج کے دباؤ کی وجہ سے ہزاروں صعوبتیں جھیل کر سرحدی کیمپوں میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں نہ تو زندگی کی کافی سہولیات پائی جاتی ہیں اور نہ ہی خورد و نوش کی اشیاء اور ان کیمپوں میں مختلف بیماریاں بھی پھیل گئی ہیں۔تابناک اور رحماء ویب سائٹس نے لکھا ہے کہ: "برما میں مسلمانوں پر روا رکھے جانے والے مظالم پاکستان کے شہر پاراچنار کے باشندوں پر طالبان کے مظالم کی یاد تازہ کرتے ہیں۔برما کے "بدھ طالبان" گاڑیوں میں بیٹھ کر پیدل چلنے والے یا بھاگنے والے یا دیہی علاقوں میں بسنے والے بچوں اور بڑوں کو کچلتے ہیں، ان کے گھروں کو مسمار کرتے ہیں اور ان کی کھیتیوں کو آگ لگاتے ہیں۔ایرانی نیوز ویب بیس "مشرق نیوز" نے مصر کو الوطن اخبار کے ساتھ بات چیت کرنے والی برما کی مسلم خاتون سماجی کارکن "عائشہ صلحی" کے حوالے سے لکھا ہے کہ "بدھ تشدد پسند مسلمانوں کو مجبور کرتے ہیں کہ 1۔ خنزیر کا گوشت کھائیں، 2۔ شراب پئیں یا 3۔ مرنے کے لئے تیار ہوجائیں اور برما کے مسلمان موت کو ایسی زندگی پر ترجیح دیتے ہیں۔عائشہ صلحی نے واضح کیا ہے کہ برما کے مسلمان حقیقی جہنم میں بس رہے ہیں اور ان کے پاس نالہ و فریاد کرنے کے سوا کچھ بھی نہيں ہے۔ برمی خاتون "عائشہ صلحی" نے مصری روزنامے "الوطن" کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے (برمی مسلمانوں کی آبادی کے حوالے سے ویکی پیڈيا اور مغربی و برمی حکومتوں کی رپورٹوں کو مسترد کرتے کیا اور) کہا کہ برما میں "ایک کروڑ" کے قریب مسلمان رہتے ہیں لیکن برما کی فوج اور حکومت ان کے ساتھ جذام میں مبتلا انسانوں کی مانند، سلوک روا رکھتے ہیں اور ان کا قتل عام کررہے ہیں۔الوطن نے عائشہ صلحی کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ خاتون مصر میں شریعت اسلامی اکیڈمی میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔عائشہ صلحی نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ برما کے مسلمانوں کی مدد کریں کیونکہ برما کے مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کے سامنے مسلمانان عالم کی خاموشی کسی صورت میں بھی جائز نہيں ہے۔ اس برمی خاتون نے الوطن کو بتایا کہ ان کا خاندان ہزاروں مسلمانوں کے ہمراہ، بدھ دہشت گردوں کے خوف سے ہجرت کرگئے ہیں اور ان کی قریبی دوست کو قتل کیا گیا ہے۔ قتل عام مکمل خاموشی میںبنگلہ دیش اور ملائشیا دو مسلم ممالک ہیں جہاں اسلام سرکاری مذہب ہے لیکن یہ دو ملک مسلمان اور پڑوسی ہونے کے باوجود، اب تک مسلمانوں کے قتل عام پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہيں اور ان کی طرف سے اب تک مسلمانوں کو بچانے کے لئے کوئی دوٹوک بیان یا موقف منظر عام پر نہيں آسکا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی نے بھی ایک مختصر سی رپورٹ میں کہا ہے کہ شدت پسند بدھ برما کے مسلمانوں کا قتل کررہے ہیں اور بچنے والے افراد چھوٹی کشتیوں میں بنگلہ دیش پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی حکومت نے مسلمانوں کو اشیاء خورد و نوش کی تھوڑی سے مقدار دینے کے بعد انہيں پناہ دینے سے انکار کیا ہے اور انہیں سمندر میں لوٹ جانے پر مجبور کیا ہے۔ ایک طرف سے اگر مسلمانان برما مظلوم ہیں اور قتل عام اور توہین کا شکار اور ہجرت پر مجبور ہیں تو دوسری طرف سے یہ مسلمانان عالم کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے اور کڑی آزمائش بھی جو اس بات کا تقاضا کررہی ہے کہ مسلمانان عالم ایک عمومی اقدام کرکے برمی حکومت کو انسانیت کا احترام کرنے پر مجبور کریں۔ایک رپورٹ کے مطابق مسلمانان برما کے قتل عام میں ہندو بھی بدھ دہشت گردوں کا ہاتھ بٹا رہے ہیں اور مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے؛ چنانچہ ان کے پہلے حملے میں ہی ایک ہزار مسلمان قتل کئے گئے، 500 افراد زخمی کئے گئے، تین ہزار اقراد اغوا کئے گئے، تین لاکھ افراد بنگلہ دیش کی طرف بھاگ گئے اور 20 گاؤں صفحہ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ شبستان نیوز ایجنسی نے لکھا ہے کہ برما کے مغرب میں مسلمانوں کی ایک بس پر بدھ دہشت گردوں کے حملے کے ساتھ اس ملک کے مسلمانوں کے خلاف تشدد کا آغاز ہوا۔ شبستان کے مطابق برما کے مسلمانوں میں سے کچھ بنگلہ دیش کی سرحدیں بند ہوجانے سے پہلے ہی اس ملک میں پناہ لینے میں کامیاب ہوئے ہیں اور بنگلہ دیش کی سرحدیں بند ہونے کے بعد سمندر میں اترے ہوئے برمی مسلمان نہ تو اپنے ملک میں لوٹ سکتے ہيں اور نہ ہی ہمیشہ کے لئے سمندر میں رہ سکتے ہیں چنانچہ انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے بنگلہ دیش کی طرف سے سرحد کی بندش کی شدید مذمت کی ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک نے اعلان کیا ہے کہ اس ادارے نے گذشتہ ہفتے چھیاسٹھ ہزار مسلم پناہ گزینوں کو خورد و نوش کی سہولیات فراہم کی ہیں۔
پہلی فوجی بغاوت جنرل تے وین نے 1962 میں کی تھی جس کے نتیجے میں وزیر اونو کی سول حکومت کا تخت الٹ گیا تھا اور اس زمانے سے 2011 تک فوجی جرنیلوں کی حکومت رہی۔ برما ایشیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے اور نہایت تنہا ملک ہے اور شدید بدانتظامی کا شکار ہے۔ برما کی آبادی پانچ کروڑ ساٹھ لاکھ کے قریب ہے جن میں سے پانچ کروڑ چارلاکھ چالیس ہزار افراد بدھ مت کے پیرکار ہیں، تقریبا 23 لاکھ مسلمان ہيں اور تقریبا 30 لاکھ عیسائی ہیں اور باقی آبادی دوسرے مذاہب کی طرف مائل ہیں۔ مسلمان اور عیسائی بڑی اقلیتیں اور ایک دوسرے کے رقیب سمجھے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو روہینگیا مسلم کہا جاتا ہے۔ لیکن مسلمانوں کی آبادی آج کتنی ہے؟ کتنے قتل ہوئے ہیں اور کتنے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں؟ کسی کو کچھ نہيں معلوم۔ کیونکہ مسلم کش فسادات اس ملک میں گذشتہ دو برسوں سے جاری ہیں۔ مسلمان اپنے علاقے کے اصلی باشندے ہیں لیکن برما کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یہ مسلمان برما کے باشندے شمار نہيں کئے جاتے بلکہ وہ اجنبی یا غیر قانونی تارکین وطن ہیں جن کو مہاجر کیمپوں میں بسانا چاہئے یا پھر ان کو اپنے آبائی علاقوں سے ماربھگانا چاہئے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ برما یا میانمار کے صدر تین سین نے یہ اعلان کرکے درحقیقت قومی اور مذہبی تعصبات کی بنا پر مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو گھربار اور وطن چھوڑنے پر مجبور کرنے اور (Ethnic and Religious Cleansing) کا قیصلہ سنایا ہے جس کے نتیجے میں ماگ اور روکھنیز بدھوں نے مسلمانوں کا قتل عام شروع کررکھا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
تصویری رپورٹ:
ــ تصویری رپورٹ: میانمار میں مسلمانوں کو زندہ جلادیا گیا +18

