ابنا: نشتر ہال پشاور قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ريمنڈ ڈيوس کے واقعے، سانحہ ايبٹ آباد اور سلالہ واقعے کے بعد آل پارٹيز کانفرنس ميں فيصلہ ہوا تھا کہ امريکہ کے ساتھ تمام زبانی معاہدے ختم کرکے تحريری معاہدے کئے جائيں گے، تحريری معاہدے سے قبل نيٹو سپلائی بحال کرنے کا حکومت کو اختيار حاصل نہيں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام پر خودساختہ اصلاحات ٹھونسنے کی بجائے انہيں اپنے مستقبل کا خود فيصلہ کرنے کا اختيار ملنا چاہیئے، اصلاحات کے نام پر قبائل کو بليک ميل کرنا درست نہيں۔ ان کا کہنا تھا کہ جرگہ جو بھی فيصلہ کرے، جے يو آئی اس کی بھرپور حمايت کرے گی۔ جرگہ سے قبائلی عمائدين منير اورکزئی ايم اين اے، سينيٹر مولانا صالح شاہ، مولانا قاسم ايم اين اے، مولانا عبدالمالک ايم اين اے، سابق سينيٹر عبدالرشيد اور ديگر عمائدين نے خطاب کيا۔
جے یو آئی کے سربراہ نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں بمباری کی وجہ حکومت کی غلط پالیسیاں ہیں، امریکہ ہم پر بمباری کر کے ہمیں ہی دہشتگرد کہہ رہا ہے، ہم عالمی جنگ کے مزید ظلم و ستم نہیں سہہ سکتے۔ گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں بمباری ہماری حکومت کی غلط پالیسیوں کیوجہ سے ہو رہی ہے۔ امریکہ ایک طرف ہمارے ہی لوگوں پر بمباری کرتا ہے اور دوسری جانب ہمیں ہی دہشت گرد کہہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نام پر عالمی جنگ سے ہمارا ہی نقصان ہو رہا ہے اور ہم عالمی جنگ کے مزید ظلم و ستم نہیں سہہ سکتے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسفند یار ولی نے پاکستان پر ظالموں کو مسلط کیا ہے۔ حکومت فاٹا میں امن قائم کرے تا کہ وہاں کے عوام ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ابھی معافی مانگی ہی نہیں کہ حکمرانوں نے نیٹو سپلائی کھول دی۔ جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور سرحد میں موت منڈلاتی نظر آتی ہے۔ ضروری ہے کہ ڈرون حملے بند کروائے جائیں۔
.......
/169