ابنا: "چرن معلولیم" کا کہنا تھا کہ مغرب نے اسلامی انقلاب کے پہلے دن سے ایران پر پابندیاں لگائی ہیں مگر اس اقدام سے ایران کو مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کا تجربہ حاصل ہوا ہے. انہوں نے کہا کہ ایران پر لگائی جانے والی حالیہ پابندیاں کوئی نئی بات نہیں اور یہ اسلامی جمہوریہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں. تھائی پروفیسر نے مزید کہا کہ ایران پر پابندیاں لگا کر مغرب اور یورپی ممالک نے اپنے پیروں پر کلھاڑی ماری ہے اور یہ ممالک ان پابندیوں کے منفی اثرات سے بچ نہیں سکیں گے. انہوں نے مغربی عناصر کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دنیا کہ اکثر ممالک بالخصوص بھارت اور چین ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں کو نہیں مانتے کیونکہ یہ ممالک کسی صورت بھی اپنی اقتصادی صورتحال کو خراب نہیں ہونے دینگے. چرن معلولیم نے کہا کہ آج کل امریکہ زوال کا شکار ہے لیکن اسلامی جمہوریہ ایران دن بہ دن مزید مستحکم ہورہا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسراییل ایران کی ترقی سے خوفزدہ ہو کر پابندیاں لگانے میں پیش پیش ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ممالک آج کل ایران پر دباو کی سیاست کر رہے ہیں اور کیونکہ یہ ممالک ایران کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تو اس کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کا راستہ اپناتے ہیں. تھائی لینڈ کی تاماسات یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا کہ امریکہ اور اسراییل کو اس وقت دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کو صحیح طریقے سے سمجھنا چاہیئے. انہوں نے جہان عرب اور مشرقی وسطی میں جاری بیداری اسلامی کی لہر کو دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں میں اہم قرار دیا اور مزید کہا کہ بیداری اسلامی سے امریکہ اور اس کے عناصر زوال کی طرف جا رہے ہیں. چرم معلولیم نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی انقلاب ایران کا بیداری امت اسلامی میں ایک بڑا حصہ ہے. .......
/169