ابنا: لالو علی گاؤں کوٹ مومن کے نزدیک چوکی بھگت میں ناصبی وہابی دہشت گردوں نے دو شیعہ بھائیوں احمد یار اور قاسم علی کو ذبح کر کے شہید کر دیا ہے۔
دونوں شیعہ بھائیوں نے کچھ عرصہ قبل مطالعہ و تحقیق کے نتیجے میں مکتب شیعہ اختیار کرلیا تھا جس کی بنا پر دونوں شیعہ بھائیوں کو منطق و عقلیت سے فارغ وہابی دہشت گردوں نے ذبح کر کے شہید کر دیا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ دونوں شیعہ بھائیوں نے شیعہ مکتب فکر کو قبول کرنے کے بعد ۲جولائی کو اپنے گھر میں مجلس عزاء کا اہتمام کیا تھا جس پر ان کی علاقے میں موجود یزید کے متوالے کالعدم (مگر سرگرم (!)) دہشت گرد ٹولے سپاہ صحابہ کے بدنام دہشت گرد اعجاز کے ساتھ مڈ بھیڑ ہوئی تھی جس کے بعد ان دونوں شیعہ بھائیوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔
تازہ ترین موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ابھی کچھ دیر قبل ہی ملعون ناصبی وہابی دہشت گرد خونخوار دہشتگرد اعجاز نے تھانے میں پیش ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے ان دونوں شیعہ بھائیوں کو صرف اور صرف اس لئے شہید کیا ہے کہ انہوں نے شیعہ مذہب قبول کیا تھا ۔
بشکریہ از شیعت نیوز
تفصیلی رپورٹ:
سرگودھا: چوکی بھاگٹ کے قریب لالوالی گاؤں میں گذشتہ دنوں شیعہ ہونے والے خاندان کے دو نوجوانوں کو رات کے وقت ذبح کر دیا گیا۔ قاتل نے تھانہ میں گرفتاری دے کر اقبال جرم کر لیاسرگودھا: 11 جولائی 2012: مصباح الھدٰی فاونڈیشن : کوٹ مومن کے قریب واقع چوکی بھاگٹ کے ملحقہ گاوں لالو آلی میں گزشتہ ماہ شیعہ ہونے والے خاندان کے دو نوجوان بھائیوں کو رات کے وقت اہلحدیث وہابیوں نے خنجر سے وار کر کے ذبح کر دیا۔ قاتل اعجاز تھانہ پیش، گرفتاری دے دی۔تفصیلات کے مطابق تحصیل سرگودھا میں چوکی بھاگٹ کے قریب واقع گاوں لالو والی میں گذشتہ ماہ ایک خاندان شیعہ ہوا اور مجلس کا اہتمام کر کے شیعہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ جس پر ان کے اہلحدیث فرقہ سے تعلق رکھنے والے ناصبیوں نے دھمکیاں دینا شروع کر دی اور مختلف مقامات پر تکالیف پہنچانا شروع کر دی۔ 2 جولائی کو انہوں نےگھر میں مجلس کا اہتمام کیا جس مین رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔مسجد میں نماز پڑھنے سے منع کر دیا گیا اور مسجد کو دھویا گیا کہ یہ ناپاک ہو گئی ہے۔ اختلافات میں تیزی آئی اور مسجد تک الگ کر دی گئی جبکہ اعجاز جوکہ اہلحدیث کا کارکن اور دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ کا مقامہ لیڈر بھی تھا نے دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ گزشتہ شب انہیں مسجد سے روکا گیا اور کافی تکرار ہوئی۔ احمد یار اور قاسم علی جن کی عمر تقریباً 25 سال کر قریب ہے رات کی سیاہی میں گھر کی چھت پر سو رہے تھے جب اعجاز اور ساتھیوں نے ان پر چھریوں اور خنجر سے وار کر کے ذبح کر دیا اور فرار ہو گئے۔یہ رات 10 بجے کا وقت تھا جب اس نو شیعہ گھر میں ماتم برپا ہوا اور ہنستا بستا گھر ماتم کدہ میں تبدیل ہو گیا۔ قاتل اعجاز نے تھانہ جا کر گرفتاری دے دی اوراقرار کیا کہ شیعہ ہونے کی وجہ سے انہیں مارا ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق تھانہ میں اعجاز کے رشتہ دار بھی موجود تھے جن کے ساتھ ملی بھگت بھی کی گئی اور ایف آئی آر اپنی مرضی کی درج کروائی گئی جس میں دفعات ذاتی نوعیت کے شامل کئے گئے۔ صبح ہوتے ہی یہ علاقہ لوگوں سے بھر گیا اور ہر دیکھنے والی آنکھ اشک بار نظر آنے لگی۔شہداء کے جنازوں کو علم عباس علیہ السلام کے سایہ میں دفن کیا گیا اور لبیک یا حسین علیہ السلام کی صداوں سے انہیں مٹی تلے دفن کر دیا گیا۔ مشن امام پر جان کا نظرانہ دینے والے چل دئے اور نام حسین علیہ السلام بلند ہو گیا۔ جس جگہ یزیدی نام حسین علیہ السلام اور علم و عزاداری سے روکتے تھے وہ جگہ آج ان شہدا کی وجہ سے عزا خانہ میں تبدیل ہو گئی اور دنیا والوں نے دیکھ لیا کہ نام حسین علیہ السلام کے دشمن بھول گئے کہ یہ عشق لہو میں نہا کے بھی ذکر حسین علیہ السلام کے بغیر بے تاب رہتا ہے۔
.......
/169
اپ ڈیٹ: