10 جولائی 2012 - 19:30

گذشتہ ماہ جون میں اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر رہی۔ دہشت گردی کی کارروائیوں میں کم سے کم پندرہ فلسطینی شہید کردیے گئے۔ صہیونی فوجی جارحیت میں پچہتر افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سترہ بچے اور پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔

ابنا: فلسطین میں ماہ جون میں صہیونی فوج کے ہاتھوں ہونے والی ریاستی دہشت گردی اور اس میں جانی نقصان کی تفصیلات انسانی حقوق کی تنظیم"المیزان برائے انسانی حقوق" نے جاری کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جون میں اسرائیلی فوج نے سب سے زیادہ حملے غزہ کی پٹی پر کیے اوروہیں پر سب سے زیادہ جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کےخلاف منظم ریاستی دہشت گردی کےدوران عالمی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا ارتکاب کیا گیا۔

انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی دانستہ طورپرجنگی طیاروں اور ٹینکوں کے ذریعے سولین کے مکانات پر بم برساتے رہے، جس کے نتیجے میں عام شہری شہید ہوئے۔ فوجی جارحیت میں درجنوں مکانات بھی تباہ کردیے گئے۔ فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں کےخلاف چھیڑی گئی اس جنگ میں اسرائیلی فوج نے بلا امتیاز فلسطینیوں پر دہشت گردانہ حملے کیے اور جنگ سے متعلق عالمی اصولوں کو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ پامال کیا گیا۔

المیزان کی رپورٹ کے مطابق جون میں اسرائیلی فوج کی ایک دن کی جارحیت میں غزہ کی پٹی میں چار مکانات مکمل طورپر منہدم ہوگئے، جبکہ دسیوں مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ صہیونی فوج کی زمینی اور فضائی بمباری کے نتیجے میں گیارہ ہزار دو سو مربع میٹر زمینوں، کھیتوں اور فصلات کو نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج کی جانب سے فلسطین کے مغربی کنارے اور دیگر شہروں میں بھی رہاستی دہشت گردی کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ مغربی کنارے میں چھاپوں اور گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں میں درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ اسیران میں کئی بچے اور کئی سابق فلسطینی اسیر بھی شامل ہیں۔

.......

/169