ابنا: سی آئی اے کے سربراہ ڈيویڈ پٹراؤس پیر کے دن اچانک جدہ پہونچے اورانھوں نے سعودی عرب کے بادشاہ عبد اللہ سے ملاقات کی اور انھیں امریکی صدر باراک اوباما کاتحریری پیغام دیا ۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے باراک اوباما کے پیغام کی طرف اشارہ کئے بغیراعلان کیا کہ طرفین نے دو طرفہ تعلقات اور علاقے کے اہم مسائل وحالات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ۔
یہ ایسے وقت ہے کہ ایک عرب ویب سائٹ نے سعودی عرب میں امریکی حکام کی خفیہ و آشکارہ ملاقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے سعودی عرب کے حالات کے بارے میں امریکی حکام کی تشویش قرار دیا ہے ۔ الحرمین ویب سائٹ نے سعودی عرب کے بارے میں امریکہ کی تشویش کے زیر عنوان سے لکھا ہے کہ امریکہ کو آل سعود کے مستقبل کے بارے میں کافی تشویش لاحق ہے ۔
اس ویب سائٹ نے مزید لکھا ہے کہ اس وقت امریکہ کے اسٹراٹیجک اتحادی داخلی تبدیلیوں نیز اعلی حکام کی بیماریوں سے دوچار ہیں ۔ حالیہ دنوں میں امریکی حکام کی سعودی حکام سےخفیہ اور آشکارہ ملاقات میں کافی اضافہ ہوگیا ہے ۔
سیاسی مبصرین اسے سعودی عرب میں رونما ہونے والے واقعات اور تبدیلیوں کے بارے میں امریکہ کی تشویش کا سبب بتا رہے ہیں ۔اس عرب ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ پٹراؤس کے ساتھ سی آئی اے کے بعض افسر اور مشرق وسطی میں امریکی وزارت خارجہ کے بعض نمایندے اور عہدیدار بھی سعودی عرب کے دورے پر جدہ پہونچے ہیں ۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی حکام کی خراب صورت حال کے بارے میں خبریں ایسے وقت سامنے آرہی ہیں کہ آل سعود کے خلاف لوگوں کے احتجاج میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے اور اس وقت سعودی عرب کےبارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے ۔معتبر ذرائع کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ سعودی عرب میں داخلی طور پر امریکہ کی سیاسی پالیسیوں کے مفادات اور علاقے میں سعودی عرب کے کردار کے پیش نظر اندر اندر کوئی تحریک چل رہی ہو ۔
المنار ہفتہ وار جریدے نے لکھا ہے کہ ایسا لگتاہے کہ سعودی عرب میں داخلی طور پر اہم در عین حال غافل کرنے والے واقعات رونما ہونے والے ہوں ۔ اس جریدے نےاس دعوی کی دلیل کو دارالحکومت ریاض میں امریکی حکام اور سی آئی اے کے افسروں کی خفیہ آمد ورفت کو قرار دیا ہے ۔ المنار جریدے نے لکھا ہے کہ امریکی حکام کی تشویش اور اضطراب کو اس ملک کے سیاسی فیصلہ کرنے والوں کے بعض حکام کی جسمانی خرابی اور ناتوانائیوں میں تلاش کرنا چاہئیے ۔
اس لئے کہ اس وقت آل سعود کی پالیسیوں کے خلاف پورے ملک ميں بد امنی پھیلی ہوئی ہے اور عوام آل سعود کی حکومت سے سخت ناراض ہیں ۔ آل سعود خاندان نزدیک اورمعتبر ذرائع کے مطابق ال سعود خاندان کے اندر جاری حالات سے پتہ چلتاہے کہ ولی عہد شہزادہ نایف بن عبد العزیز کے انتقال کےبعد اس ملک کوشاہ عبد اللہ کی بیماری جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور سعودی عرب کے سیاسی اور علاقائی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک عبداللہ کے مرنے کے بعد سعودی شہزادوں کے درمیان اقتدارکی جنگ اور آل سعود کی حکومت کا خاتمہ بعید از انتظار نہیں ہے ۔
بہرحال سعودی عرب سےامریکہ کےاسٹراٹیجیک مفادات وابستہ ہیں اس لئے علاقے میں امریکی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے میں سعودی حکام کے کردار کے پش نظر آل سعود کی حکومت کی سرنگونی سے امریکی مفادات کو سخت نقصان پہونچ سکتا ہے ،.......
/169