ابنا: حوزہ علمیہ میں عالمی شعبہ کے ذمہ دار ، حجت الاسلام محمد حسن زمانی نے رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر سے گفتگو میں یورپ کی جانب سے ائیل پر لگائی گئی پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : یورپ اور اور امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیاں کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔
حوزہ علمیہ قم میں عالمی شعبہ کے ذمہ دار نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ان پابندیوں کی جڑیں سامراجیت مزاجی اور آمریت طلبی ہے اور تاریخ میں ھمیشہ باطل نے حق کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوششیں کی ہیں کہا : یہ سختیاں مرسل اعظم صل اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں بھی موجود تھیں ، استکبار اپ کے زمانے میں بھی اپ پر دباو ڈالتا رہا تھا ۔
حجت الاسلام زمانی نے یاد دہانی کی : پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے میں بھی شِعب ابی طالب میں پابندیاں موجود تھیں اور ائمہ اطھار (ع) کے دشمن بھی سیاسی اور اقتصادی محاصرہ کرکے عوام کومشکلات سے روبرو کرتے رہے ہیں ۔
انہوں نے پابندیوں اور دباو کو ستمگروں کی پُرانی بُری سنت بتاتے ہوئے کہا کہ اِسے معصومین کو دباو میں رکھنے کی غرض سے قائم کیا گیا تھا اورتاکید کی : کبھی محاصرے سخت کردئے جاتے تھے اور ائمہ علیھم السلام کو ایک علاقہ میں نظر بند کردیا کرتے تھے ، امامین عسکریین(ع) سے عوامی رابطہ توڑنے کی غرض سے انہیں فوجی چھاونی میں رکھا گیا اور ان سختیوں کا سب سے برا زمانہ ساتویں امام موسی بن جعفر الکاظم (ع) کا دور تھا ۔
حوزہ علمیہ میں عالمی شعبہ کے ذمہ دارنے کہا : پوری تاریخ میں حق تحریکوں نے اقتصادی پابندیاں دیکھی ہیں اور یہ ایران کے لئے کوئی نئی چیز نہیں ہے ، اگر دشمنوں نے ھم پر پابندیاں لگائی ہیں اور ھم اقتصادی محاصرے میں ہیں تو تعجب نہ کریں ۔
انہوں نے امام خمینی (رہ) کی فرمائشات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ اگرکسی دن ھمارا دشمنوں اور امریکا ھم سے راضی ہو تو ھمیں اس سلسلے میں شک کرنا چاھئے تاکید کی : ایرانی قوم ھمیشہ دشمنوں کی سازشوں سے مقابلہ کے لئے تیار رہے ، جب تک ھم دشمنوں کو ٹیکس نہیں دیں گے اور دیگر مظلوم قوموں کی حمایت کرتے رہیں گے دشمنوں کے دباو اور اقتصادی پابندیوں کا شکار رہیں گے ۔
جب تک باطل موجود ہے ھم پابندیوں اور دباو کے توقع رکھیں
حجتالاسلام زمانی نے مزید کہا : جب تک دنیا میں باطل موجود ہےھم پابندیوں اور دباو کے توقع رکھیں ، یہ سختیاں ظهور امام زمانہ (عج ) تک چلتی رہیں گی اور وہی ظلم وستم کی دیواریں گرائیں گے ۔
انہوں نے مزید یہ بیان کرتے ہوئے کہ دین اسلام نے اسے حالات ہی کے لئے روزہ اور بھوک کی تمرین کرائی ہے کہا : روزہ کا ایک فلسفہ ریاضت اور بھوک کا برداشت کرنا ہے کہ اگر ایک دن ایسا وقت آگیا تو ھمیں اس کی عادت رہے ۔
حوزہ علمیہ میں قم عالمی شعبہ کے ذمہ دار نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ دشمن کا ایک حربہ اقتصادی ، سیاسی محاصرہ اور پابندیاں ہیں کہا : اگر اس کا ھمیں یقین ہوجائے تو ھرگز جلد بازی سے کام نہیں لیں گے ، سلامتی کونسل کے فیصلوں سے عوام اور حکام مضطرِب و پریشان نہیں ہوں گے اورآسانی سے ان مشکلات کو حل کر لیں گے ۔
انہوں نے مزید کہا : سماجی میڈیا ، ریڈیو ، ٹی وی اور نیوز ایجنسیاں اس یقین کو قوم کے ذھنوں تک پہونچانے کی کوشش کریں تاکہ وہ دن جب اسلامی جمھوریہ ایران مستقل ہوکر دشمنوں کے زیر سایہ نہ رہے ، دنیا کے مظلوموں کے دفاع اور اپنے حق کے مطالبہ تک دشمنوں کی پابندیوں اوردباو کی منتظر رہے ۔
ھمیں حق پر چلنے کی قیمت چکانی پڑے گی
حجتالاسلام زمانی نے یہ بیان کرتے ہوئے پابندیوں کا سلسلہ باقی رہے گا اور ان کے بڑھنےکی امیدیں بھی کی جاسکتی ہیں تاکید کی : یقینا اس کے سخت نتائج بھی ہیں ، مہنگائی اور سامان فروخت کرنے کے لئے عالمی مارکیٹ کا فقدان ملک کے اقتصادی نظام کو تزلزل کا شکار کرسکتا ہے مگر حق کی اطاعت اور دشمنوں سے مقابلہ میں ان نتائج کا سہنا ضروری ہے ۔
انہوں نے ایات قران کریم کے ائینے میں یہ کہتے ہوئے کہ مومنین پر دشمنوں کی سختیاں ان کے ایمان اوراستقلال کی نشانی ہے کہا : مومنین اس جرم پر فخر کرتے ہیں اور اس کی قیمت بھی دینے کو تیار ہیں ۔
حوزہ علمیہ میں عالمی شعبہ کے ذمہ دار نے مزید کہا : عوام ان مشکلات کو خدا کی رضایت اور استقلال کی حفاظت میں تحمل کرتے ہیں اور ایرانیوں کو ھرگز پسند نہیں کہ اپنی اسائش کے لئے اپنا استقلال کھو دیں اور سامراجیت کی غلامی کریں ۔
انہوں نے اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے رھبر معظم انقلاب اسلامی کی فرمائشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہ پابندیوں کا بظاھر بڑھتا ہوا دباو اقتصادی رفتار میں کمی کا سبب ہے مگر درحقیقت پابندیاں ھماری قوم کے لئے نعمت شمار کی جاتی ہے اضافہ کیا : ایرانی قوم خلاقیت کے ذریعہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو اور علم کے میدان میں ترقی کرکے ملک کے اقتصادیات کو ٹھیک کرے ۔
حجتالاسلام زمانی نے یاد ہانی کی : اگرھمارے پاس تین دہاییوں کا تجربہ نہ ہوتا تو اس بات کا یقین مشکل تھا کہ پابندیاں ھمارے حق میں مفید ثابت ہوئی ہیں ، مگر ایرانیوں نے اس تیس سال کےعرصے میں یہ ثابت کردیکھایا کہ ایران کو ترقی نصیب ہوئی ہے ۔.......
/169