8 جولائی 2012 - 19:30

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلینٹن نے اپنے کابل کےغیر متوقع سفرکے دوران کہا کہ واشنگٹن نے افغانستان کو اپنے اصلی اتحادی کے عنوان سے منتخب کیا ہے۔

ابنا: ان کا کہنا تھا کہ اگر چہ امریکہ سن دو ہزار چودہ کے آخر تک افغانستان سے اپنی فوج واپس بلا لےگا  لیکن اس کے باوجود یہ ملک ابھی سے ہی واشنگٹن کے اتحادی ملکوں میں شمار ہونے لگاو ہے۔        

ایک دہائی گذرنےجانے کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ امریکہ نےافغانستان کا اس طرح سے انتخاب کیا ہے امریکی حکام کے نظریہ کے مطابق ، بعض ممالک دنیا کے حساس ملک ہونے اور امریکہ سے اسٹراٹیجک روابط رکھنے کی وجہ سے امریکہ کے اتحادی  ملک قراردئیے جارہے ہیں۔

جاپان ، جنوبی کوریا ، آسٹریلیا، قدس کی غاصب حکومت اور خلیج فارس کے بعض عرب ممالک اس اتحاد میں شامل ہیں ان میں سے اکثر ممالک نےخود سے یا امریکی دباؤ میں آنے کی وجہ سے امریکہ کی میزبانی قبول کی ہے مثال کے طور پر، امریکہ اور جاپان کے درمیان ہونے والی جنگ کے تقریبا نصف صدی سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود آج بھی جاپان کی بعض سر زمینوں پر امریکہ کا قبضہ ہے اسی طرح خلیج فارس کے جنوبی علاقے میں بھی امریکہ نے عراق کی بعثي حکومت یا اسلامی جمہوریہ ایران کی ترقی و پیشرفت کے خطرات کا بہانہ بنا کرلاکھوں کی تعداد میں اپنے فوجی تعینات کئے ہیں تاکہ دنیاکےسب سے بڑے تیل کے ذخیرے یعنی آبنائے ہرمز کو اپنے کنٹرول میں رکھے۔                                                         

اس وقت امریکی وزیر خارجہ کی کابل میں ہونے والی تقریر کے بعد افغانستان بھی ، بغیر بلائے مہمان کی طرح امریکہ کی اتحادی پارٹی میں شامل ہوگیا ہے یہ ایسے وقت میں ہےکہ تقریبا ایک عشرے سے زیادہ کے عرصے سے افغانستان کی سرزمین امریکہ کے قبضے میں ہے اور روزانہ افغانستان کے سیکڑوں بے گناہ اور نہتے مظلوم عوام امریکہ اور اس کے اتحادی نیٹو کے زمینی اور فضائی حملوں میں مارے جارہے ہیں یا زخمی ہورہے ہیں جب کہ قتل و غارتگری کا یہ ننگا ناچ، گیارہ ستمبر سن دوہزار ایک میں ہونے والے حملے کے بعد طالبان اور القاعدہ سے بدلہ لینے کے بہانے سے شروع کیا گیاتھا ۔       

اگر چہ امریکہ نے کہا تھا کہ ہم نے افغانستان کے عوام کو آزادی دلانے ، امن و صلح اور آسائش کی برقراری کے لئے یہ اقدام کیا ہے حالانکہ افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کے کارناموں سے یہ صاف واضح ہورہا ہے کہ اس نے اپنے کئے ہوئے وعدے پر اب تک عمل نہیں کیا ہے  یہاں تک کہ امریکی غاصب فوج نے افغانستان میں منشیات سے بچاؤ کے بارے میں کئے گئے وعدے بھی عمل نہیں کیا ہے اور افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی فوج کی تعیناتی کے بعد افیم اور منشیات کی کاشت اور اس کے کاروبار میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔      

جب کہ افغانستان میں دسیوں برس سے جاری سنگین اخراجات اوربےنتیجہ ہونے والی جنگ کی بنا پر امریکہ سخت اقتصادی بحران سے دوچار ہوگیا ہے اور افغانستان سے اپنی فوج نکالنا چاہتاہے، ان تمام حالات کے باوجود یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ امریکہ کہ جس نے جنگ کے لئے تین سو ارب ڈالرسے زیادہ خرچ اور پندرہ سو سے زائد امریکی فوجیوں کی جان گنوائی ہے بہت بعید ہے کہ بغیر کسی مفاد کے اتنی آسانی سے افغانستان کو چھوڑ دےگا ۔

درحقیقت ، امریکہ نے طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنے یا القاعدہ کی سرکوبی سے بھی زیادہ ایک بہت بڑے مقصد کے تحت افغانستان کی سرزمین پر قبضہ کررکھا ہے۔  ایشیا کے وسط  میں امریکی فوج کی موجودگی اور روس ، ہندوستان اور ایران جیسے ممالک پر کنٹرول ایسے مقاصد ہیں جن کی بنا پر امریکہ نے افغانستان پر غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے۔ اس بنا پر امریکہ اس بات کے درپے  ہے کہ افغانستان کو اپنی اتحادی پارٹی میں شامل کرکےدسمبر سن دو ہزار چودہ کے بعد بھی اپنی فوج کو اس ملک میں باقی رکھ کرایک نیا رنگ و روپ دےتا کہ افکار عامہ میں قابل توجیہ ہوسکے ۔

جب کہ  ایسا نہیں لگتا ہے کہ امریکی حکام کی نظر میں افغانستان کےسلسلے میں کسی طرح کا تغییر وتبدل افغانستان کے لاکھوں شہریوں کی سخت و دشوار زندگی کو بہتر بنانے میں موثر ثابت ہوگی ۔.......

/169