7 جولائی 2012 - 19:30

دبئی کے پولیس چیف ضاحی خلفان نے مصر میں اخوان المسلمون کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے عرب ممالک کے لیے خطرناک قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون کا مصر کے تخت پر بیٹھنا عرب ممالک کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔

ابنا: متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ الشیخ عبداللہ بن زید آل النہیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک برادر ملک عوامی جمہوریہ مصر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت سے آگاہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصر کا خطے میں قائدانہ کردار "یو اے ای" کے تزویراتی مفاد کے حق میں ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یو اے ای کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہم دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہش مند ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ مستقبل میں متحدہ عرب امارات اور مصر کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے میدانوں میں کھلے دل کے ساتھ تعاون جاری رہے گا"۔

متحدہ عرب امارات کے نوجوان وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مصر کے نو منتخب صدر ڈاکٹر محمد مْرسی ان کے ملک اور دیگر خلیجی ممالک کیساتھ دوستی کے رشتے کو مزید مضبوط بنائیں گے اور ان کے دور حکومت میں "یو اے ای" اور مصر دوطرفہ تعلقات کی کئی منازل طے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اماراتی وزیر خارجہ نے مصر کے نو منتخب صدر کے قاہرہ یونیورسٹی میں خطاب کے دوران عرب ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے بارے میں اعلان کو سراہا اور کہا کہ ڈاکٹر محمد مرسی کا یہ بیان خوش آئند ہے کہ وہ عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکات پر اکٹھا ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ الشیخ عبداللہ بن زید آل النہیان نے کہا کہ قاہرہ کی جانب سے مابعد انقلاب عرب ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے بارے میں متوازن اور قابل قدر موقف سامنے آتا رہا ہے۔ ہم مصر کی نئی حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھتے ہوئے خطے بالخصوص عرب ممالک کے داخلی مسائل کے حل کے لیے غیر ملکیوں کی مداخلت کے خلاف ہیں۔ خطے میں غیر ملکی مداخلت سے متعلق مصر کی نئی حکومت کا موقف بھی دیگر عرب ممالک کے موقف سے ہم آہنگ ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے اس بیان کو بھی سراہا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ مصری انقلاب کو صرف اپنے ملک تک محدود رکھیں گے اور کسی دوسرے ملک میں اسے برآمد کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ "یو اے ای" کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عرب ممالک کے چیلنجز اور مشکلات ایک ہیں، ان کے حل کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ مساعی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں مصر قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

درایں اثناء مصر میں متحدہ عرب امارات کے سفیر محمد بن نخیر الظاھری نے قاہرہ میں الوفد پارٹی کے سربراہ حسن الدراوی سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ دبئی کے پولیس چیف ضاحی خلفان کا اخوان المسلمون کے بارے میں موقف ان کی ذاتی رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلفان کے بیان کو "یو اے ای" کا سرکاری موقف نہ سمجھا جائے۔ مصر اور متحدہ عرب امارات کے عوام ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعاون کے کئی معاہدے بھی قائم ہیں۔ ایسے میں کسی عہدیدار کی جانب سے کوئی متنازعہ بیان سامنے آنے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی کامیابی پر متحدہ عرب امارات کی حکومت اور سیاسی شخصیات کی جانب سے تہنیتی پیغامات بھیجے گئے۔ اگر "یو اے ای" کو ڈاکٹر محمد مرسی کے صدر بننے پر کوئی اعتراض ہوتا تو ایسا نہ کیا جاتا۔ متحدہ عرب امارات کے سفیر نے مصری سیاست دان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قاہرہ اور ابوظہبی کے درمیان دوستانہ اور مضبوط تعلقات کا آغاز "یو اے ای" کے سابق سربراہ شیخ زید آل النہیان کے دور میں ہوا، جو اب تک جاری ہے۔

ہم دونوں ملکوں کے درمیان قائم اس دوستی پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ لخیر الظاہری کا کہنا تھا کہ مصر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات اس وقت متاثر ہوئے تھے جب سابق مصری حکومت نے اسرائیل کے ساتھ یکطرفہ طور پر کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کر لیا تھا۔ چونکہ اس معاہدے کی بعض دفعات عرب ممالک کے مشترکہ مفادات کے خلاف تھیں، یہی وجہ ہے ان کے ملک نے اس کی کھل کر مخالفت کی تھی۔

یاد رہے کہ دبئی کے پولیس چیف ضاحی خلفان نے مصر میں اخوان المسلمون کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے عرب ممالک کے لیے خطرناک قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون کا مصر کے تخت پر بیٹھنا عرب ممالک کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔

.....

/169