7 جولائی 2012 - 19:30

شہید عارف حسین الحسینی: آج استعمار کی ایک سازش یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر وہ غیراسلامی کام اسلام کے نام پرعام کررہے ہیں اوران کے لئے سب سے بہترین آدمی اس وقت آپ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں جنرل صاحب (ضیاءالحق) ہیں اور ان کی سب سے زیادہ خدمت اس میدان میں جنرل صاحب نے کی ہے۔

سم اللہ الرحمن الرحیمنظریاتی دشمن اور علامہ عارف حسین الحسینی کی تشخیص

بقلم: نذرحافی

کسی شخص کا اگر دماغ مفلوج ہوجائے تو اس کا باقی بدن باہمی ربط کھو دیتاہے اور وہ الٹی سیدھی حرکات شروع کردیتاہے ،جسکی وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ شخص پاگل ہوگیا ہے۔بالکل اسی طرح کسی بھی ملت میں دانشمندوں کی حیثیت دماغ کی سی ہوتی ہے۔اگرکہیں پر دانشمند حضرات اچھائیوں کی ترغیب دیں تو لوگ اچھائیوں کی طرف آنے لگتے ہیں اور اگر برائیوں کی تبلیغ کریں تو لوگوں میں برائیاں عام ہونے لگتی ہیں۔جس ملت کے دانشمند حضرات اپناکام چھوڑدیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کریں تووہ ملت پاگلوں کی طرح الٹی سیدھی حرکات کرنے لگتی ہے اور اس ملت کے کسی بھی فرد کو کچھ پتہ  نہیں چلتاکہ اس کے ساتھ کیا ہونے والاہے اور اسے کیا کرناچاہیے۔ یعنی جس ملت کے دانش مند افراد میدان میں رہتے ہیں وہ ملت میدان میں قدم جمائے رکھتی ہے اور جس ملت کے دانشمند افراد میدان خالی چھوڑدیں اس ملت کے قدم میدان سے اکھڑجاتے ہیں۔کوئی بھی ملّت اس وقت تک انقلاب برپانہیں کرسکتی جب تک اس کے صاحبانِ فکرودانش اس کی مہار پکڑکرانقلاب کی شاہراہ پر آگے آگے نہ چلیں۔اگرکسی قوم کی صفِ اوّل دانشمندوں سے خالی ہو توایسی قوم وقتی طور پر بغاوت تو کرسکتی ہے یاپھر کوئی نامکمل یابے مقصد انقلاب تولاسکتی ہے لیکن ایک حقیقی تبدیلی اور بامقصد انقلاب نہیں لاسکتی۔ [جس کی مثال اسلامی بیداری کے نتیجے میں رونما ہونے والے انقلابات ہیں جو حکومتوں کو گرانے میں بھی کامیاب ہوگئے لیکن حکومتوں کی تشکیل میں ناکام رہے اور جن کے خلاف انقلاب بپا ہوئے وہی آکر ان انقلابی ملتوں کے سرپرست بن بیٹھے]۔کسی بھی معاشرے میں دانشمندوں کی حیثیت،بدن میں دماغ کی سی ہوتی ہے،دماغ اگراچھائی کاحکم دے تو بدن اچھائی کاارتکاب کرتا ہے ،دماغ اگر برائی کاحکم دے تو بدن برائی انجام دیتاہے،دماغ اگر دائیں طرف مڑنے کاحکم دے توبدن دائیں طرف مڑجاتاہے اور اگر دماغ بائیں طرف مڑنے کا کہے توبدن۔۔۔ جیساکہ تحریک ِ پاکستان کے دوران ہم دیکھتے ہیں کہ برّصغیرکے مسلمانوں کی قیادت،علمائ،شعرائ،خطبائ،وکلائ،معلمین،مدرسّین،واعظین اور صحافی حضرات پرمشتمل تھی، انہوں نے نہتّے مسلمانوں کو طاغوت و استعمار کے خلاف کھڑا کردیا اور ان کی قیادت میں برّصغیر کی ملت اسلامیہ اپنے لئے ایک نیا ملک بنانے میں کامیاب ہوگئی لیکن قیامِ پاکستان کے بعدحصولِ اقتدار کی دوڑشروع ہوئی تو جاگیرداروں، صنعتکاروں، وڈیروں اور نوابوں نے دانشمندوں کودھتکار کر ایک طرف بٹھادیا۔صحافت کوملازمت بنایاگیا، علماء کو مسجد و مدرسے میں محدود کیا گیا،خطباء اور وکلاء کو فرقہ وارانہ اور لسانی تعصبات میں الجھایاگیا، معلمین، مدرسین اور شعراء کافکرِ معاش کے ذریعے گلہ گھونٹاگیا۔ جس سے ملکی قیادت میں پڑھے لکھے اوردینی نظریات کے حامل باشعور افراد کاکردار ماندپڑتاگیا اور صاحبانِ علم و دانش کے بجائے رفتہ رفتہ بدمعاشوں،شرابیوں اور لفنگوں کاسکّہ چلنے لگا۔ملکی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوتی گئی جن کا علم و دانش اور ملت و دین سے دورکاواسطہ بھی نہیں تھا۔چنانچہ یہ نئی قیادت جیسے جیسے مضبوط ہوتی گئی ملتِ پاکستان ،قیام ِ پاکستان کے اہداف اور اغراض و مقاص سے دور ہوتی چلی گئی۔دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کو ایک لادین ریاست بنانے اور اس کے قیام کے اغراض و مقاصد کومٹانے کے لئے،نظریہِ پاکستان کو مشکوک قراردیاجانے لگا،انسانیت کے نام پر تقسیم ِ برّصغیر کو غلط کہاجانے لگااوردین دوستی کو انسانیت دوستی کی راہ میں رکاوٹ بنا کر پیش کیاجانے لگا۔جس سے نظریہ پاکستان کی جگہ کئی لسانی و علاقائی تعصبات نے جنم لیا اور ملت پاکستان لڑکھڑانے لگی ،یہ لڑکھڑاتی ہوئی ملت ١٩٧١ء میں دودھڑوں میں بٹ گئی اور پاکستان دوٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا۔١٩٧١ء سے لے کر ١٩٧٧ء تک باقی ماندہ پاکستان، فوج اور سیاستدانوں کے ہاتھوں میں بازیچۂ اطفال بنارہا، بالکل ایسے ہی جیسے آج سے پانچ سوسال پہلے اٹلی بازیچۂ اطفال بناہواتھا، ایسے میں اٹلی کی طرح پاکستان کی قیادت میں ایک میکاویلی ابھرا۔۔۔پاکستان کا یہ میکاویلی ١٩٢٤ء میں جالندھرمیں پیداہوا، ابتدائی تعلیم اس نے جالندھر اور دہلی میں ہی حاصل کی، ١٩٤٥ء میں اس نے فوج میں کمیشن حاصل کیا اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران برما، ملایا اور انڈونیشیا میں اس نے فوجی خدمات انجام دیں، برّصغیرکی آزادی کے بعد اس نے پاکستان کی طرف ہجرت کی، ١٩٦٤ء میں اسے لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقّی دی گئی اور یہ سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوا، ١٩٦٠ء سے ١٩٦٨ء کے دوران اسے اردن کی شاہی افواج میں خدمات انجام دینے کا موقع بھی ملا، مئی ١٩٦٩ء میں اسے آرمڈڈویژن کا کرنل سٹاف اور پھر بریگیڈئیر بنادیاگیا، ١٩٧٣ء میں یہ میجر جنرل اوراپریل ١٩٧٥ء میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پرفائز ہوا اور یکم مارچ ١٩٧٦ء کو یہ پاکستان آرمی کا چیف آف آرمی سٹاف بنا۔ بالاخر١٩٧٧ء میں یہ پاکستان کے اقتدار کا بلاشرکت غیرے مالک بننے میں کامیاب ہوگیا۔اس کے مکمل فوجی فوجی پسِ منظر کی وجہ سے بڑے بڑے سیاسی ماہرین اس سے دھوکہ کھاگئے اوربڑے بڑے تجزیہ کار اس کی شخصیت کا درست تجزیہ نہ کرسکے۔علمی و سیاسی دنیا آج بھی اس مرموزوپراسرارشخص کے بارے میں اس مغالطے کی شکارہے کہ یہ صرف ایک فوجی آدمی تھا اور کچھ نہیں۔حالانکہ اگر یہ صرف فوجی ہوتاتویحیٰ خان کی طرح عیاشیاں کرتا اور مرجاتایاپھر ایوب خان کی طرح دھاندلیاں کرتا اور رخصت ہوجاتااور اس کاشر اس کے ساتھ ہی دفن ہوجاتالیکن اس کے فکری بچے پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی مزید افزائشِ نسل ہورہی ہے،اس کے قائم کئے ہوئے تھنک ٹینکس اور دینی مدرسے،اس کے پالے ہوئے سیاستدان،اس کے نوازے ہوئے صحافی،اس کے بھٹکائے ہوئے ملّا،اس کے تربیت دیے ہوئے متعصب لسانی و علاقائی لیڈرپاکستان کی شہ رگ کومسلسل کاٹ رہے ہیں۔١٩٧١ء کے سیاسی بحران کے بعدپاکستان میں جدیدلادین سیاست کابانی اور پاکستانی میکاویلی ضیاء الحق،فوجی وردی کے سائے میں ١١سالوں کے اندروہ کام کرگیاجواٹلی کے میکاویلی نے١٥سالوں میں کیا تھا۔ صاحبانِ علم و تحقیق بخوبی جانتے ہیں کہ اٹلی کے میکاویلی کو جدیدسیاسی فکر اور سیاسی فلسفے کا بانی کہاجاتاہے اس کامختصرتعارف یہ ہے کہ وہ١٤٦٩ء میں اٹلی کے شہرفلورنس میں ایک وکیل کے گھر پیداہوا، اس کی عملی زندگی خاندانِ میدیچی کی حکومت کے خاتمے کے بعدشروع ہوئی،١٤٩٨ء میں پہلی دفعہ اسے محرّرکی حیثیت سے سرکاری ملازمت ملی،ایک سال بعد ہی وہ خارجی سیاست کی شوریٰ کا سربراہ مقرّرہوا،اس طرح اسے دوسری ریاستوں کا عملی مطالعہ کرنے کاموقع ملا،جب تک فلورنس میں جمہوری حکومت قائم رہی اسے کے تجربات میں اضافہ ہوتاگیااور پھر١٥١٣ء میں جب میدینچی خاندان پھر فلورنس کامالک بنااور فلورنس میں جمہوریت کا خاتمہ ہواتواسے کچھ دن جیل کی ہوابھی کھانی پڑی،جس کے بعد اس نے عملی سیاست کو خیربادکہ کر اپنی تمام تر توجہ اپنے سیاسی تجربات اور مطالعات کو تصانیف میں ڈھالنے پر مرکوزکردی۔١٥١٣ء میں اس کی مشہورِ زمانہ کتابIL PRINCIPE  یاTHE PRINCEمنظرِعام پرآئی، ١٥٢١ء میں اس کی ایک اور کتابDISCOURSESمنظرِعام پرآئی۔ یہاں پر یہ بات قابلِ ذکرہے کہ وہ تاریخی مطالعے سے زیادہ اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر کتابیں لکھ رہاتھااس لئے ہرروز اسے نت نئی حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑتاتھا چنانچہ اگر اس کی پہلی کتا ب کے ساتھ ہی  ملاکراس کی دوسری کتاب کا مطالعہ نہ کیا جائے تواس کے سیاسی فلسفے کو نہ صرف یہ کہ سمجھانہیں جاسکتا بلکہ بہت ساری غلط فہمیاں بھی جنم لیتی ہیں۔اس نے  THE PRINCE میں کامیاب بادشاہ کے لئے لائحہ عمل دیا ہے اورDISCOURSES میں کامیاب جمہوریت کے لئے اپنے نظریات بیان کئے ہیں۔یعنی اس کا مکمل سیاسی فلسفہ دونوں کتابوں کو ملائے بغیرمکمل نہیں ہوتا۔ان دوکتابوں کے علاوہ اس کی اور بھی بہت ساری تصانیف موجودہیں نیزیہ بھی یادرہے کہ وہ شعروشاعری ناول نگاری اور مزاحیہ ڈرامے لکھنے میں بھی مشہورتھا۔اس نے یہ سارے کام١٥١٢ء سے لے کر١٥٢٧ء تک کے عرصے میں یعنی ١٥سالوںمیں کئے ہیں،١٥٢٧ء میں جب میدیچی حکومت کا دوبارہ تختہ الٹا تو گوشہء گمنامی میں تصنیف و تالیف میں مصروف یہ اطالوی مفکر کچھ عرصے بعد٥٨سال کی عمر میں وفات پاگیا۔اسے دوبارہ عملی سیاست میں حصہ لینے کا موقع تو نہ ملا البتہّ اس کے فکری فرزندگزشتہ پانچ صدیوں سے دنیائِ سیاست میں چھائے ہوئے ہیں اور اس کے سیاسی افکارنے اکیسویں صدی کے اقوام اورممالک کوبھی اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے۔جب ہم اس کی تصانیف کو اس کے دور کی تاریخ کے ساتھ رکھ کر حل کرتے ہیں اور اساتذہ کے ساتھ سوال و جوب کرتے ہیں تو اس کے سیاسی فلسفے کا خلاصہ یہی سامنے آتاہے :[1]"سیاست کا دین اور اخلاق سے کوئی تعلق نہیں" ۔چونکہ اٹلی کے میکاویلی کا پسِ منظر علمی اور سیاسی تھا لہذا اس کا سیاسی فلسفہ بہت جلد علمی حلقوں  میں زیرِ بحث آیا اور اس پر لے دے شروع ہوگئی لیکن پاکستان کے میکاویلی بظاہرصرف اور صرف" فوجی "تھاجس کے باعث علمی و فکری حلقوں میں اس کی شخصیت کو سنجیدگی سے زیرِ بحث لانے کے قابل ہی نہیں سمجھا گیا اور یہی ملتِ پاکستان کے دانشوروں سے بھول ہوئی۔حتّیٰ کہ ذولفقار علی بھٹو سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ وہ خود کو تو دنیائِ سیاست کا ناخدااور اسے فقط "فوجی" سمجھتے  رہے۔تجزیہ نگار اظہر سہیل کے مطابق جنرل ضیاء الحق ،جنہیں بھٹو نے ٨ جرنیلوں کو نظراندازکرکے چیف آف آرمی سٹاف بنایاتھا،انھیں دن میں دومرتبہ مشورے کے لئے بلاتے تھے اور وہ ہردفعہ پورے ادب کے ساتھ سینے پر ہاتھ رکھ کر نیم خمیدہ کمر کے ساتھ یقین دلاتے :سر! مسلّح افواج پوری طرح آپ کا ساتھ دیں گی۔میرے ہوتے ہوئے آپ کو بالکل فکرمند نہیں ہوناچاہیے۔[2] اس نے اپنی عملی زندگی میں جس فلسفے کو عملی کیا وہ اٹلی کے میکاویلی سے بھی زیادہ خطرناک تھا،اگر اس کی تمام تقریروں کو سامنے رکھ کراوراس کے دور کی تاریخ کے ساتھ ملاکردیکھاجائے ،نیز اس کے ہم نوالہ و ہم پیالہ جرنیلوںکی یاداشتوں کا مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے عہد کی اسلامی شخصیات کے بیانات کو بھی مدِّ نظر رکھا جائے تو اس کی فکروعمل کا خلاصہ کچھ اس طرح سے سامنے آتاہے :"سیاست کا دین و اخلاق سے کوئی تعلق نہیں لیکن سیاست کو دین و خلاق سے جدا کرنے کے بعد اس کا نام پھر سے دینی و اخلاقی سیاست رکھ دینا چاہیے"۔ موصوف کی دین اسلام اورشریعت کے نام پر ڈرامہ بازیوں کودیکھتے ہوئے ایک مرتبہ پشاور میں قاضی حسین احمد کوبھی یہ کہناپڑاکہ شریعت آرڈیننس قانونِ شریعت نہیں بلکہ انسدادِ شریعت ہے۔   [3]اس نے لادین سیاست کا نام دینی سیاست رکھ کرپاکستان کے دینی و سیاسی حلقوں کی آنکھوں میں اس طرح دھول جھونکی کہ اس کی نام نہاد دینداری کی چھتری کے سائے میں بڑی بڑی نامی و گرامی دینی و سیاسی شخصیتیں آکر بیٹھ گئیں۔اسے پیرومرشد اور مردِ مومن اور مردِ حق کہاجانے لگا،