ابنا: پاکستان اور ہندوستان کے خارجہ سيکريٹريوں کے درميان يہ مذاکرات نئي دھلي ميں ہوئے جن ميں دونوں ملکوں کے درميان تعلقات کي بحالي ميں حائل رکاوٹوں کا جائزہ ليا گيا۔دو روزہ مذاکرت کے اختتام پر پاکستان کے سيکريٹري خارجہ جليل عباس جيلاني اور ہندوستان کے خارجہ سيکريٹري رنجن متھائي نے مشترکہ پريس کانفرنس سے بھي خطاب کيا۔اس موقع پر ہندوستان کے سيکريٹري خارجہ رنجن متھائي نے کہا کہ مذاکرات ميں خطے ميں امن اور دہشتگردي کے بارے ميں تفصيلي تبادلہ خيال کيا گيا۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ہندوستان نے ممبئي حملے کے بارے ميں مزيد شواہد پاکستان کے حوالے کئےہيں اور ابوجندال کے معاملے کو بھي اٹھاياہے۔ہندوستان کے سيکريٹري خارجہ نے مزيد کہا کہ مذاکرات کے دوران اقتصادي اور معاشي معاملات پر بھي بات چيت ہوئي ہے۔پاکستان کے سيکريٹري خارجہ جليل عباس جيلاني نے اس موقع پر کہا کہ انہوں نے ايک بار پھر ممبئي حملوں کي مشترکہ تحقيقات کي پيشکش کي ہے۔جليل عباس جيلاني کا کہنا تھا کہ کوئي بھي پاکستاني ايجنسي ہندوستان کے اندر دہشتگردي ميں ملوث نہيں ہے۔پاکستان کے سيکريٹري خارجہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہيں کہ دہشتگردي دونوں ملکوں کي دشمن ہے- انہوں نے اپنے ملک کے اس موقف کا اعادہ کيا ہے کہ دونوں ملکوں کو ايک دوسرے پر الزام تراشي سے گريز کرتے ہوئے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہيے۔........
/169