4 جولائی 2012 - 19:30

پاکستان انتہائی اہم دور سے گزر ہا ہے، معاملہ صرف نیٹو سپلائی کا نہیں بلکہ خارجہ پالیسی، بیرون ممالک سے برابری کی سطح پر تعلقات اور قومی سلامتی و پاکستان کے تحفظ کا ہے، کوئی ایسا اقدام نہ اٹھایا جائے جس سے قومی سلامتی پر حرف آتا ہو ۔

ابنا: ان خیالات کا اظہار علامہ سید ساجد علی نقوی نے نیٹو سپلائی بحالی کے بعد ملکی و بین الاقوامی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے خارجہ پالیسی کی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے جب تک خارجہ پالیسی کو درست سمت کی طرف گامزن نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک میں بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت برقرار رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس ابہام کو دور کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے تعلقات امریکہ سمیت پوری دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر استوار کئے جائیں اور اس کے بعد کوئی لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت مسئلہ صرف نیٹو سپلائی بحالی کا نہیں بلکہ پاک امریکہ تعلقات کا ہے اور جب تک ان تعلقات کی حیثیت کو واضح نہیں کیا جاتا اس وقت تک اسی طرح کے ابہام جنم لیتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی مفادات اور قومی تشخص کو ہر چیز پر مقدم رکھ کر فیصلہ کیا جائے اور امریکہ سمیت عالمی برادری سے برابری کی سطح پر تعلقات کو از سر نو ترتیب دیا جائے تبھی ملک کو مسائل کی گرداب سے نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے امریکہ سمیت عالمی برادری کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات اور ہر معاملے میں فیصلے پاکستان کے مفادات کی ترجیح ہی 2 بنیادی نکات ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر ملک کو مستحکم کیا جاسکتا ہے اور عوام میں پھیلے اضطراب کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔ ......./169