ابنا: لبنان کے وزير داخلہ مروان شربل نے جنوبي بيروت کے علاقے ضاحيہ ميں گفتگو کے دوران بعض افراد کے غير ذمہ دارانہ بيانات اور ملک کے شمالي شہر طرابلس ميں بدامني کے واقعات ميں شدت پر تشويش کا اظہار کرتے ہوئے ملک کي سبھي سياسي جماعتوں اور سياسي شخصيات سے کہا ہے کہ وہ لبنان ميں امن و امان کي برقراري کے لئے کوشش اور سيکورٹي اداروں کے ساتھ تعاون کريں - لبنان کے وزير داخلہ نے کہا ہے صورتحال پر کنٹرول رکھنے کےلئے ملکي سطح پر سيکورٹي پلان پر عمل کيا جانےوالا ہے - اس سے پہلے حزب اللہ اور لبنان کي پارليمنٹ کے اسپيکر بھي ملک ميں فتنہ پيدا کرنے کےلئے لبنان کے بعض گروہوں کي کوششوں پر تنقيد کرتے ہوئے اس بات کا مطالبہ کيا تھا کہ ملک ميں امن وامان کي برقراري کے لئے حکومت اور سيکورٹي اداروں کو چاہئے کہ وہ اپني کوششيں اور زيادہ تيز کرديں -اسي سلسلے ميں حزب اللہ کي انتظامي کونسل کے نائب سربراہ شيخ نبيل فاروق نے کہا کہ لبنان کے بعض گروہ قبائلي اور مذہبي منافرت پرمبني اشتعال انگيز بيانات دے کر اور ہتھياروں کا سہارا لے کر صہيوني حکومت کے مقابلے ميں لبنان کو کمزور کرنا چاہتے ہيں - لبنان کے وزير خزانہ محمد فنيش نے بھي لبنان ميں سيکورٹي کي برقراري کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ لبنان کي فوج کو کمزور کرنا چاہتے ہيں درحقيقت وہ لبنان کي سلامتي کو خطر سے دوچار کررہے ہيں- ان حالات ميں لبنان کي پارليمنٹ کے اسپيکر نبيہ مري اور ممبرپارليمنٹ علي فياض نے بھي اپنے الگ الگ بيانات ميں بيروت ميں سليمان ميشل کي صدارت ميں لبنان کي سبھي قومي پارٹيوں کي شرکت سے اجلاس جاري رکھنے پر زور ديتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اجلاس سے مختلف گروہوں اور پارٹيوں کے درميان پائے جانےوالے اختلافات کو ختم کرنے ميں مدد ملے گي- ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کي بات چيت سے جہاں اختلافات ختم ہوں گےوہيں شمالي لبنان ميں جاري بدامني کے واقعات پر بھي آساني سے قابو پايا جاسکے گا - واضح رہے کہ لبنان کي پارليمنٹ ميں مغرب نواز دھڑے المستقبل کے پارليماني ليڈر فواد سينورہ نے دعوي کيا ہے کہ حزب اللہ کے ہتھياروں نے ملک کے سياسي توازن کو بگاڑ کررکھ ديا ہے- اس کے لئے ضروري ہے کہ ايک معين نظام الاوقات کے تحت حزب اللہ اپنے ہتھيار حکومت کے حوالے کردے - فواد سينورہ کے اس بيان پر لبنان کي پارليمنٹ کے بيشتر ممبران منجملہ پارليمنٹ کے اسپيکر نبيہ بري نے بھي سخت ردعمل کا اظہا رکيا ہے - نبيہ بري نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ لبنان نے غاصب اسرائيلي حکومت کے ذريعے غاصبانہ قبضے کے دوران جو مصائب برداشت کئے ہيں ان سے چھٹکارہ صرف مزاحمتي گروہوں اور فوج کے باہمي تعاون سے ہي ممکن ہوسکا ہے، کہا کہ مزاحمتي گروہوں اور فوج کے درميان يہ ہم آہنگي ضروري ہے اورتحريک مزاحمت ايک ضرورت تھي جو اسرائيل کے غاصبانہ قبضے کا مقابلہ کرنے کے لئے معرض وجود ميں آئي - لبنان ميں دروزي ڈيموکريٹک پارٹي کے سربراہ طلال ارسلان نے بھي اپنے بيان ميں کہا کہ لبنان ميں کوئي بھي دھڑا ايسا نہيں ہے جس کے پاس ہتھيار نہ ہوں تو صرف حزب اللہ کے ہي ہتھياروں پر کيوں اعترض ہے- انہوں نے کہا کہ ان حالات ميں تحريک مزاحمت حزب اللہ کا مسلح رہنا بہت ہي اہم اور ضروري ہے - کتائب مسيحي پارٹي کے سربراہ امين جميل نے بھي جنوبي لبنان کو آزاد کرانے کے تعلق سے حزب اللہ کي شاندارکاميابيوں کي تعريف کرتے ہوئے کہاکہ حزب اللہ لبنان کي ايک ضرورت ہے اور سن دوہزار سے پہلے اور بعد کے برسوں ميں يہ ضرورت جوں کي توں برقرار ہے کيونکہ لبنان کي فوج کے پاس اپنے ملک کے دفاع کے لئے ضروري توانائي نہيں ہے جبکہ لبنان پر اسرائيل کا خطرہ روزانہ منڈلايا کرتا ہے-........ /169
28 جون 2012 - 19:30
News ID: 325659
لبنان کے وزير داخلہ نے ملک کي تمام سياسي جماعتوں اور شخصيات سے اپيل کي ہے کہ قيام امن ميں ملک کے سيکورٹي اداروں کے ساتھ تعاون کيا جائے -