25 جون 2012 - 19:30

ایران اور عراق کےسرحدی صوبوں کےگورنروں نے ایران کےمغربی شہرکرمانشاہ میں دونوں ملکوں کےسرحدی گورنروں کےاجلاس میں ایک معاہدےپردستخط کئےہیں۔

ابنا: اس معاہدےميں زائرین، مسافروں اورتاجروں کی رفت وآمد میں آسانی پیداکرنا، سرحدی کاموں کےاوقات میں ہماہنگی ،سرحدی نگرانی کی کمیٹیوں کی ملاقاتوں میں اضافہ ، سرحدی مارکٹوں کی تعمیرکی تکمیل، طرفین کےسرحدی قوانین کوآسان بنانااوربندپڑی مارکٹوں اوربازارچوں کوفعال بنانااس معاہدہ کی جملہ شقیں ہيں۔
ایران اورعراق کےسرحدی علاقوں کےگورنروں کےپہلےاجلاس میں عراق کےچھ صوبوں اورایران کےپانچ صوبوں کےگورنروں نے سنیچرسےپیرتک دو روزہ اجلاس منعقدکیا۔ اس اجلاس میں ایران کےصوبہ کرمانشاہ، کردستان ، ایلام ، خوزستان اورمغربی آذربائیجان کےگورنروں اورعراق کےصوبہ اربیل، سلیمانیہ ، دیالہ ، واسط ، میسان ، اوربصرہ کےگورنروں نےحصہ لیا۔
اس اجلاس کےاختتام پر ایران اورعراق کےسرحدی علاقوں کےگورنروں کےاجلاس کےاختتام پر ایران کی وزارت داخلہ کےاقتصادی امور کےڈپٹی منسٹریحی محمود زادہ اورعراقی صوبوں کےامور کےڈپٹی گورنر تورہان مظھرحسن المفتی نےدستخط کئے۔
ایران کےوزیرداخلہ مصطفی محدنجار نے اس معاہدےپردستخط کےموقع پرکہاکہ اس اجلاس کےانعقاد کامقصد ایران اورعراق کےدرمیان اقتصادی تعاون اورلین دین میں اضافہ قراردیا۔ 
ایران کےوزیرداخلہ نے اس معاہدےکااہم محور، زراعت، سیاحت، صنعت، زائرین کی رفت وآمد ، نقل وحمل ، ٹرانزٹ، اورعلاقائی تعاون میں فروغ کوقراردیا۔
محمدنجاد کےبقول ، ایران اورعراق کےدرمیان تجارتی تعلقات کی قیمت گذشتہ سال تقریبادس ارب ڈالرتھی اوراس اجلاس میں انجام پانےوالےمعاہدےسے توقع ہےکہ لین دین کی قیمت بارہ ارب ڈالرتک بڑہ جائے۔
کرمانشاہ کےگورنردادوش ہاشمی نےاس اجلاس میں دونوں ملکوں کی سرحدوں سے مسافروں اورسامان کےنقل وحمل کےقوانین کومساوی قراردینےکامطالبہ کیااورکہاکہ کرمانشاہ رات دن تجارتی سامان کی منتقلی کےلئےتیارہےاورسرحدی نمائشگاہ ، مشترکہ صنعتی کالونیوں اور ہرطرح کی مشترکہ سرحدی اقتصادی سرگرمیوں کےلئے بنیادی ڈھانچےتیارکرنےکےلئےتیارہے ۔
عراقی صوبوں کےامور کےوزیرمظھرحس طرھان المفتی نے اس نشست کےاجلاس میں کہاکہ بےپناہ مشترکات اوربہترسرحدی اوراقتصادی صلاحیتوں کےپیش نظراسلامی جمہوریہ ایران کےساتھ تعلقات ،حکومت عراق کی ترجیحی پالیسیوں کاحصہ ہے۔
ایران اورعراق کےسرحدی صوبوں کےگورنروں نےاجلاس ختم ہونےکےبعد کرمانشاہ پیٹروکیمیکل یونٹ کابھی دورہ کیااوراس کےبعد دوفریقی اورچندفریقی شکل میں مختلف معاہدوں پردستخط کئے۔ اس معاہدےکی اکثرشقوں کاتعلق اقتصادی ، ثقافتی ، سماجی ، تکنیکی اورپلانٹ انجینئرنگ کےشعبوں میں مذکورہ صوبوں کےتعلقات کوفروغ دیناہے۔
.......
/169