21 جون 2012 - 19:30

انھوں نے کہا: آچ ذرائع ابلاغ کا کام بہت اہم ہے کیونکہ مختلف واقعات کی خبریں فوری طور پر سائبر اور سیٹلائٹ ذرائع کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچ جاتی ہيں اور دشمنان اسلام تشہیر وابلاغ کے حربے سے اسلام اور امت اسلامی پر ایسے حملے کرتے ہیں جو وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حملوں سے کہیں زيادہ خطرناک ہیں چنانچہ ہمیں بھی ان ہی حربوں اور اوزاروں سے استفادہ کرتے ہوئے دشمن کے ارادے کچلنے اور اس کو رسوا کرنے کا اہتمام کریں۔

اہل البیت (ع) ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مجلس خبرگان کے رکن اور قم کے امام جمعہ آیت اللہ حسینی بوشہری نے اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے برمی زبان کے پیج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میانماری زبان کا پیج کھولنے پر ابنا کا شکریہ ادا کیا کہ اہل بیت (ع) اور شیعیان اہل بیت (ع) علیہم السلام کی خبروں و معارف کی اشاعت کے لئے زبانوں کا تنوع نہایت قابل تحسین عمل ہے۔ انھوں نے کہا: اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں "مواقع سے درست اور بروقت استفادہ" بہت اہم ہے اور ہمیں ان کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے اہل بیت علیہم السلام پر ڈھائے جانے والے مظالم کا مقابلہ کرنے کے لئے استقامت سے کام لینا چـاہئے اور استقامت کا ایک راستہ یہ ہے کہ مظلومین عالم بالخصوص شیعیان مظلوم پر وارد کئے جانے والے مصائب کو کوریج دی جائے اور ان مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے ظالموں اور ستمگروں کا چہرہ بے نقاب کیا جائے۔ انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس حدیث کا حوالہ دیا کہ "اگر کسی نے فریاد کی اور مدد طلب کی اور سننے والے نے اس کا مثبت جواب نہ دیا وہ اپنے آپ کو مسلمان نہ سمجھے"، اور کہا: یہاں عدم مسلمانی عملی طور پر ہے اور اس شخص نے در حقیقت ایسے عمل سے روگردانی کی ہے جو مسلمان ہونے کا سبب بنتا ہے ورنہ فقہی حوالے سے مسلمان وہ ہے جو شہادتین زبان پر جاری کرے اور کہے"اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد انِّ محمداً عبدہ و رسولہ"۔ پس مظلوم مسلمان کی مدد مسلمانی کے اسباب و ملزومات میں سے ہے۔ انھوں نے کہا: عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی تشکیل کا ہدف یہ ہے کہ ائمہ کی سفارش پر عمل کیا جائے اور طاقت و اقتدار کو خدمت کے اوزار کے طور پر بروئے کار لایا جائے؛ چنانچہ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ چاہتی ہے کہ وہ تنہا شیعہ مسلمان جو افریقہ یا پاکستان یا کسی اور ملک میں ظلم و ستم کا شکار ہورہا ہے، قوت محسوس کرے اور اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھے۔ اس عظیم ذمہ داری اور نیک کام کی انجام دہی کے لئے مواقع اور دستیباب فرصتوں سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے؛ اس سلسلے میں ابنا کا کام بہت قابل قدر ہے؛ اطلاع رسانی کے اہم ترین ملزومات میں سے ایک یہ ہے کہ زمان و مکان کی شناخت ہو اور قارئین کی ضرورت کو پہچانا جائے کیونکہ بہت سے مواقع پر قارئین و مخاطَبین کی ضرورت مالی اور معاشی نہیں بلکہ وہ فکری اور اعتقادی غربت سے دوچار ہوتے ہیں۔حوزہ علمیہ قم کی شورائے عالی کے رکن نے کہا: جو لوگ علمی و تہذیبی غربت کا شکار ہیں انہیں "ایتام آل محمد (ص)" سمجھنا چاہئے اور وہ شخص جو اپنے زمانے کے امام سے دور ہو وہ "یتیم آل محمد (ص)" ہے اور اگر ہم اس زمانے میں یتیم نوازی کریں تو اللہ تعالی کی بارگاہ میں اجر عظیم پائیں گے۔انھوں نے کہا" یتیم نوازی کا مطلب، محض یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا نہیں ہے بلکہ اس یتیم کی فکر و علمی نشوونما کی کوشش بھی یتیم نوازی کے زمرے میں آتی ہے۔ آیت اللہ حسینی بوشہری نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یتیم نوازی کی روش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمیں حضور اکرم (ص) کی مانند یتیم نوازی اور یتیم داری کرنی چاہئے یعنی یہ کہ یتیم کے دکھ درد کو پہچاننا اور اس کے لئے مناسب دوا و مرہم فراہم کرنا چاہئے اور اس کے بعد گھر گھر تلاش کرکے یتیموں اور بیماروں کا سراغ لگانا اور ان کا علاج کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا: شیعیان اہل بیت علیہم السلام کی اخلاقی خصوصیات میں سے ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اہل بیت علیہم السلام کے دوسرے پیروکاروں سے عشق و محبت رکھتے ہيں اور ہمیں اپنے عمل میں بھی اس محبت کا اظہار کرنا چاہئے۔ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن نے مسلمانان عالم کے درمیان اتحاد کے قرآنی اصول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمارے پاس دو عظیم اسمبلیاں: مجمع تقریب بین مذاہب اسلامی اور مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ہیں جو ساتھ ساتھ کام کرتی ہيں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم دنیا بھر میں شیعیان اہل بیت (ع) کے حقوق سے چشم پوشی نہيں کرتے تاہم اس بات کی اجازت بھی نہيں دیتے کہ اسلام دشمن طاقتیں شیعہ اور سنی کے درمیان اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کردیں اور ہمارے اختلافات سے فائدہ اٹھائیں۔انھوں نے کہا: اس زمانے میں خبرایجنسیوں کا کام بہت اہم ہے کیونکہ اس سے قبل خبریں صرف مساجد اور نماز جمعہ میں نشر ہوا کرتی تھیں لیکن آج انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا میں خبریں نشر ہوتی ہیں اور دشمنان اسلام تشہیر وابلاغ کے حربے سے اسلام اور امت اسلامی پر ایسے حملے کرتے ہیں جو وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حملوں سے کہیں زيادہ خطرناک ہیں چنانچہ ہمیں بھی ان ہی حربوں اور اوزاروں سے استفادہ کرتے ہوئے دشمن کے ارادے کچلنے اور اس کو رسوا کرنے کا اہتمام کریں۔

.......................

/110