20 جون 2012 - 19:30

مصر ميں انقلابي نوجوانوں کي تنظيموں نے خبردار کيا ہے کہ اگر صدارتي انتخابات ميں احمد شفيق کو کامياب قرارديئے جانے کي کوشش کي گئي تو پورے ملک ميں خانہ جنگي شروع ہوجائے گي -

ابنا: چھے  اپريل نامي انقلابي موومنٹ نے مصر کے صدارتي انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج کے اعلان ميں تاخير کے اعلان کے پيش نظر اس خدشے کا اظہار کيا ہے کہ سابق ڈکٹيٹر حسني مبارک کے آخري وزير اعظم  احمد شفيق کو دھاندلي کے ذريعے کامياب قرارديئے جانے کي کوشش کي جارہي ہے-  اس درميان مصر کے سپريم اليکشن کميشن نے اعلان کيا ہے کہ دوسرے مرحلے کے صدارتي انتخابات کے نتائج کا اعلان جو جمعرات کو ہونےوالا تھا اب جمعے تک موخر کيا جاتا ہے-   اليکشن کميشن نے کہا ہے کہ صدارتي اميدواروں احمد شفيق اور محمد مرسي کي شکايتوں کا جائزہ لينے کے بعد ہي صدارتي انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوگا - اليکشن کميشن کي طرف سے نتائج کے اعلان ميں تاخير سے مصري عوام ميں بے چيني پائي جارہي ہے - نتائج کے سرکاري اعلان ميں تاخير ايک ايسے وقت ہورہي ہے جب غير سرکاري نتائج کے اعلان کے مطابق اسلام پسند اميدوار محمد مرسي مصر کا صدارتي اليکشن جيت چکے ہيں -  يہ ايسي حالت ميں ہے کہ مصر کي عدالت عاليہ  انتخابات سے متعلق دونوں صدارتي اميدواروں کي شکايات کا جائزہ لے رہي ہے - عدالت عاليہ ميں اخوان المسلمين کے وکيل نے کہا ہے کہ معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک کے آخري وزير اعظم احمد شفيق نے فوجي کونسل کے تعاون سے وسيع پيمانے پر دھاندلي کي ہے - اخوان المسلمين کے وکيل عبدالمنعم عبدالمقصود نے کہا ہے  کہ احمد شفيق نے انتخابات ميں دھاندلي کا ہر راستہ اختيار کيا ہے - انہوں نے کہا کہ مصر کے پوليس اہلکاروں اور فوجيوں نے احمد شفيق کو ووٹ ديئے ہيں  جبکہ آئين کے مطابق فوجيوں کو ووٹ دينے کا حق نہيں ہے  ليکن متعدد رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ ووٹنگ ميں فوجيوں کے شناختي کارڈ استعمال کئے گئے ہيں - اس کے علاوہ احمد شفيق نے رائے دہندگان کو خريدنے کا اقدام بھي کيا ہے-   اخوان المسلمين نے اسي کے ساتھ انتخابات کے نتائج ميں دھاندلي کرنے اور احمد شفيق کو کامياب قرار دينے کے لئے حکمراں فوجي کونسل کي سازش پر اعتراض کرتے ہوئے تحرير اسکوائرپر  غير معينہ مدت کي بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کيا ہے -    يہ ايسي حالت ميں ہے کہ مصر کي  حکمراں فوجي کونسل نے سولہ جون کو   پارليمنٹ تحليل کرنے کے آئيني عدالت کے فيصلے کے بعد ، پارليمنٹ کے اختيارات اپنے ہاتھ ميں لے لئے ہيں - مصر کي اعلي فوجي کونسل نے اسي کے ساتھ يہ بھي اعلان کيا ہے کہ اس کے پاس  مصر کے نئے آئين کو ويٹو کرنے کا اختيار ہے -  مصر کي  آئيني عدالت اور حکمران فوجي کونسل کے اس  اقدام کو مصر کي انقلابي تنيظيمو نے  انقلاب کو سبوتاژ کرنے کي سازش قرارا ديا ہے -......./169