18 جون 2012 - 19:30

افغانستان ميں نيٹو افواج کے ترجمان نے دعوي کيا ہے کہ افغانستان ميں نيٹو کي افواج امن قائم کرنے کے لئے موجود ہيں - افغانستان ميں نيٹو کي اعلي کمان کے ترجمان نے ايک پريس کانفرنس ميں دعوي کيا کہ امريکا اور نيٹو کي جانب سے افغان شہريوں کي حفاظت کي کوششيں بدستور جاري رہيں گي ـ

ابنا: يہ پہلا موقعہ نہيں ہے کہ نيٹو اور امريکا کي جانب سے افغان عوام کے غيظ و غضب کو کم کرنے کے لئے اس قسم کے بے بنياد اور خلاف حقيقت دعوے کئے گئے ہيں، يہي نہيں افغان حکومت کے ساتھ طے پانے والے سيکورٹي معاہدے ميں بھي نيٹو اور امريکي حکام نے عام شہريوں کي حفاظت کا عہد کيا ہے ليکن عملي طور پر افغان عوام يہ ديکھ رہے ہيں کہ غير ملکي افواج افغان شہريوں کا بے دريغ قتل عام کر رہي ہيں ـ گزشتہ چھے جون کو صوبہ لوگر کے برکي برک ضلعے کے ايک رہائشي علاقے پر امريکا اور نيٹو کي بمباري ميں کم از کم اٹھارہ بے گناہ شہريوں کو درندگي کا نشانہ بنايا گيا جن ميں نو معصوم بچے اور چار عورتيں بھي شامل تھيں ـ

   اقوام متحدہ نے بھي اپني رپورٹ ميں بتايا ہے   کہ سن دو ہزار ايک ميں افغانستان پر امريکي جارحيت کے آغاز سے ليکر اب تک بيس ہزار بے گناہ شہري ہلاک کئے گئے ہيں ـ يونيسف نے ان حملوں ميں بچوں کي جانيں تلف ہونے پر شديد تشويش کا اظہار کيا ہےـ بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اس عالمي ادارے نے اپني رپورٹ ميں کہا ہے کہ سن  دو ہزار گيارہ ميں ہونے والي مختلف جھڑپوں ميں سترہ سو چھپن بچے ہلاک اور زخمي ہوئے جبکہ سن  دور ہزار دس ميں يہ تعداد تيرہ سو چھيانوے تھي ـ افغانستان ميں سرگرم عمل تنظيموں کي رپورٹوں کے مطابق سب سے زيادہ بچے نيٹو کے ہوائي حملوں ميں مارے جاتے ہيں ـ

    افغانستان ميں نيٹو افواج کے جرائم بڑے بھيانک ہيں اور ہولناک پہلوؤں کے حامل ہيں تاہم خبروں پر لگے سينسر کي وجہ سے ساري حقيقت منظر عام پر نہيں آ پاتي ـ ڈنمارک کے روزنامہ انفارميشن نےحال ہي ميں  ايسي فوجي دستاويزات کا انکشاف کيا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امريکا کي قيادت ميں نيٹو فوجيوں نے رہائشي علاقوں ميں فاسفورس کے حامل بموں اور راکٹوں کا استعمال کيا ہے جس کي وجہ سے ان کي زد ميں آنے والے شخص کا جسم اس وقت سلگتا رہتا ہے جب تک آکسيجن نہيں  پہنچتي رہے-
.......

/169