ابنا: صدارتی انتخابات میں سابق مصری فرعون حسنی مبارک کے آخری وزیر اعظم احمد شفیق کا مقابلہ اخوان المسلمین کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے سربراہ محمد مرسی کے ساتھ ہے۔ ووٹنگ کے حتمی نتائج کا اعلان اکیس جون کو کیا جائے گا۔ تاہم غیر حتمی نتائج ووٹنگ کے عمل کے ختم ہونے کے چوبیس گھنٹے بعد آ جائیں گے۔
البتہ ان انتخابات سے قبل سیاسی حلقوں میں اس وقت بےچینی پھیل گئی جب سپریم کورٹ کی جانب سے پارلیمان کو تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کرانے کی سفارش کی گئی۔ پارلیمان کے انتخابات گزشتہ سال ہوئے تھے جن کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرارا دیدیا۔ ان انتخابات میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے 235 نشستوں میں سے 100 نشستیں حاصل کی تھی۔
اگر سپریم کورٹ کی سفارش مانتے ہوئے پارلیمان تحلیل کردی جاتی ہے تو جو بھی نیا صدر منتخب ہو گا وہ عہدہ ایسی صورت میں سنبھالے گا جب نہ تو آئین ہے اور نہ ہی صدر کے اختیارات کا تعین کیا گیا ہے۔پارلیمان کے تحلیل ہونے کی صورت میں وہ سو رکنی کمیٹی بھی تحلیل ہو جائے گی جس کو نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔اخوان المسلمین نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ وہ ہی صدارتی انتخابات جیتے گی حالانکہ عدلیہ اس جماعت کے خلاف ہے اور عدلیہ ہی ووٹوں کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔
محمد مرسی نے مصری فوج اور اس کے حمائتیوں کو کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ فوج کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ مصری ذرائع کے مطابق فوجی انتظامی کونسل اور عدلیہ نے ملکر اسلام پسندوں کو ناکام بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن مصری عوام فوجی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کو ٹھکرا دیا ہے۔ مصری عوام نے پھر میدان التحریر کا رخ کردیا ہے واضح رہے کہ امریکہ سعودی عرب کے ذریعہ مصری فرعون کے حامیوں کو لانے کی کوشش کررہا ہےمصر میں اسوقت امریکی فکر اور سعودی پیسہ خرچ کیا جارہا ہےتاکہ ایسی حکومت وجود میں نہ آجائے جو اسرائیل کے لئے خطرہ ثابت ہو۔ .......
/169