ابنا: بي بي سي کے پروگرام ہارڈ ٹاک ميں بات چيت کرتے ہوئے علي اصغر سلطانيہ نے کہا کہ امريکي اور يورپي سياستداں ايران کے جوہري پروگرام کے حوالے سے حقائق کو بيان نہيں کرتے - انہوں نے کہا کہ امريکا اور يورپ کي جانب سے عائد کي جانے والي پابندياں بھي حقائق کے سراسرا منافي ہيں اور ان پابنديوں کا ايران کي پرامن جوہري سرگرميوں پر کوئي اثر نہيں پڑا ہے- انہوں نے کہا کہ پابنديوں کے نتيجے ميں مغربي ملکوں سے ايراني عوامي کي نفرت ميں ضرور اضافہ ہوا ہے- آئي اے اي اے ميں ايران کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ايران عالمي برادري کو پوري سنجيدگي کے ساتھ يہ باور کرانے کي کوشش کر رہا ہے کہ اسکا جوہري پروگرام فوجي نہيں ہے اور نہ کبھي فوجي مقاصد کا رخ کرے گا- علي اصغر سلطانيہ نے کہا کہ اس حقيقت کے باوجود آئي اے اي اے کے بعض رکن ممالک مذاکرات کے حوالے سے منفي پيغامات ارسال کر رہے ہيں- انہوں نے کہا کہ چند ايک ملکوں کو پوري عالمي برادري کا نمائندہ نہيں سمجھا جانا چاہيے کيونکہ غير جانبدار تحريک کے سو سے زائد رکن ممالک گزشتہ دس برس سے ايران کي پرامن جوہري سرگرميوں کي حمايت کرتے چلے آرہے ہيں- علي اصغر سلطانيہ نے کہا کہ مغرب کے پاس بہترين آپشن يہ ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لئے ايران کے جوہري حق کو باضابطہ طور پر تسليم کرلے......./169
14 جون 2012 - 19:30
News ID: 322434
جوہري توانائي کے عالمي ادار ے آئي اے اي اے ميں ايران کے مستقل نمائندے علي اصغر سلطانيہ نے تہران کے خلاف پابنديوں کو لاحاصل قرار دے ديا ہے-