ابنا: دریں اثناء اس ملک کی حکمران فوجی کونسل نے ایک آرڈینینس جاری کیا ہے جس کے تحت پولیس اور فوج کو یہ اجازت دے دی گئي ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر لوگوں کو گرفتار کرسکتی ہے۔ اگر اس حکم پر عمل کیاجاتا ہے تو اس ملک میں ایک طرح کی ایمرجنسی نافذ ہوجائے گي۔اگرچہ مصر میں اکتیس برسوں کے بعد اکتیس مئي کو ایمرجنسی ختم کردی گئي تھی لیکن اسی ایمرجنسی نے تین عشروں کے دوران ڈکٹیٹر حکومت کو اس بات کا موقع فراہم کیاکہ وہ قومی سلامتی کے خلاف اقدام کۓ جانے کے بہانے حسنی مبارک کی حکومت کی مخالفت کرنے والوں کو گرفتار کرلیتے تھے۔
مصر کی حکمران فوجی کونسل کے افراد حسنی مبارک کے ہی تربیت یافتہ ہیں اور انھوں نے بھی اپنے مخالفین کی آواز کو دبانے کے لۓ حسنی مبارک والا طریقہ ہی اختیار کیا ہے۔ لیکن چونکہ مصر میں سرکاری طور پر ایمرجنسی کے خاتمے کا اعلان کردیا گيا ہے اس لۓ فوجی کونسل ملک میں ایمرجنسی کو ایک دوسری صورت میں نافذ کرنے کے درپے ہے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ فوجی کونسل نے موجودہ صورتحال میں فوجیوں کی صوابدید پر شہریوں کی گرفتاریوں کا حکم جاری کیا ہے۔ شائد فوجی اس ذریعے سے تمام مصری عوام کے سامنے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ فوج ہمیشہ سے مصر کے سیاسی نظام کا حصہ رہی ہے۔
مصر کی حکمران فوجی کونسل کے اراکین بخوبی آگاہ ہیں کہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے انعقاد کے بعد ان کو اقتدار چھوڑنا ہے۔ اس بات کا ذکر اس کونسل کے سربراہ محمد حسین طنطاوی نے بھی اس سے پہلے کیا تھا۔ فوجیوں نے پہلے بھی تاکید کی تھی کہ وہ جون کے مہینے میں اقتدار سے الگ ہوجائيں گے۔ اب اگر صدارتی انتخابات میں محمد مرسی کو کامیابی حاصل ہوئي تو فوجیوں کو واپس بیرکوں میں جانا پڑے گا۔ اس بات کو حکمران فوجی کونسل کے اراکین بھی جانتے ہیں۔ بنابریں وہ پولیس ، سیکورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کو مصری شہریوں کی گرفتاری کی اجازت دے کر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ مصر میں فوجیوں کو کنارے لگانا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔
البتہ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ فوجی کونسل کی جانب سے مصری شہریوں کی گرفتاری کا حکم درحقیقت صدارتی انتخابات پر احمد شفیق کے حق میں اثر انداز ہونے کے مقصد سے دیا گيا ہے۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ مصرکے قبطیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران مصر میں امن عامہ کی صورتحال کےبارےمیں اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس ملک کی تقریبا دس فیصد آبادی قبطیوں پر مشتمل ہے جو کہ احمد شفیق اور فوجیوں کے لۓ بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعید نہیں ہے کہ مصر کی حکمران فوجی کونسل نے صدارتی انتخابات کے موقع پر بحران پیدا کرنے کے لۓ فوجیوں کی صوابدید پر مصرکے شہریوں کی گرفتاریوں کا حکم دیاہو کیونکہ حکمران فوجی کونسل کے اراکین اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملک میں بحران پیدا ہونے کی صورت میں ان کے اقتدار کو طول ملنے اور مختلف میدانوں میں ان کی مداخلت کا راستہ بہتر طور پر ہموار ہوگا۔ .......
/169