13 جون 2012 - 19:30

عراق کے مختلف شہروں میں دہشتگردانہ حملوں میں 70 سے زائد افراد شہید اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں/

ابنا: عراق کے سرکاری اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آج کے دہشتگردانہ حملے اور بم دھماکے حلہ ۔ موصل ۔ کربلا ۔ کرکوک ۔ بعقوبہ ۔ دمشق ۔ اور دارالحکومت بغداد اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ہوئے ۔ ان دہشتگردانہ واقعات کے بعد عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے اپنے ملک کے سیکیورٹی اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنی مکمل ہوشیاری و جدت عمل کے ساتھہ دہشتگردوں اور ان کے حملوں کا مقابلہ کریں ۔

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے فوجی و پولیس حکام سے ملاقات میں کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسیز اس حوالے سے زیادہ ذمہ داریوں کا مظاہرہ کریں ۔ انھوں نے ذمہ داریوں کا بھرپور مظاہرہ نہ کرنے والوں کو خبردار بھی کیا۔ نوری المالکی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سیاسی اختلافات سے عراق کی سیکیورٹی کی صورت حال متاثر ہوگی تاکید کے ساتھہ کہا کہ امن و سلامتی عراقی عوام کی اہم ترین امنگ اور تمام خواہشات کے حصول کا ذریعہ نیز ملک کی تعمیر و ترقی اور استحکام کا اہم ترین وسیلہ ہے ۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ عراق سے اغیار کے انخلاء کے بعد اس ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور عراق میں بدامنی پھیلانے کیلئے خونریز اور خوفناک ترین بم دھماکے ایسی صورت میں کئے جارہے ہیں کہ نوری المالکی سے اعتماد اٹھانے کیلئے اغیار سے وابستہ بعض سیاسی دھڑوں کا منصوبہ شکست سے دوچار ہوچکا ہے ۔ اس سلسلے میں علاقے کے بعض پریس ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق میں ہونے والے بم دھماکوں کشیدگی اور بدامنی کے واقعات میں سعودی عرب ملوث ہے ۔ پریس ٹی وی کے مطابق عراق کے سیاسی مبصر محمود الہاشمی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، عراق میں نوری المالکی کی حکومت کو ناکام بنانے اور اس ملک میں بحران و بدامنی پھیلانے کیلئے دہشتگردوں کو ہر طرح کی مدد فراہم کررہا ہے ۔

عراق کے اس مبصر کے بقول سعودی عرب نے عراق میں نوری المالکی کی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئےصرف مالی حمایت سے اس ملک کے داخلی امور میں مداخلت کو کافی نہیں سمجھا بلکہ وہ عراق میں بم دھماکوں تشدد و جارحیت کا بازار گرم اور بے گناہوں کا خون بہانے میں بھی سرگرم عمل ہے اور وہ عراق میں جمہوریت کا تجربہ ناکام بنانے کی کوشش اور اس سلسلے میں بے تحاشا پیسہ خرچ کررہا ہے اسلئے کہ آل سعود اپنے پڑوس میں کوئی ایسا جمہوری ملک برداشت نہیں کرسکتے کہ جہاں حکومت کا انتخاب عوام کریں اور یہ عوام سیاسی و سماجی حقوق کے حامل بھی ہوں ۔

دریں اثنا مغربی سفارتی ذرائع نے عراق کی موجودہ صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عراق میں امریکہ، سعودی عرب کے مالی ذرائع کے سہارے اس ملک کے عوام کے قتل عام اور خونریز جنگ کی کمان کررہا ہے اور عراق میں تخریبی کاروائیوں کے ذمہ دارعناصر وہی دہشتگرد ہیں کہ جنھیں سعودی عرب کی مالی حمایت حاصل ہے اور عراق میں دہشتگردانہ اقدامات کا مقصد اس ملک میں امن و امان تباہ اور ترقیاتی منصوبوں کی روک تھام اور سرانجام عراق کو ترقی و پیشرفت سے روکنا ہے ۔

 .......

/169