11 جون 2012 - 19:30

آل خلیفہ تاج و تخت کو بچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے اور سینکڑوں سیاسی قیدیوں کے ساتھ درجنوں بچے بھی خلیفی اذیتکدوں کی قید میں ہیں ایسی ہی صورت حال میں خلیفی عدالت نے کل جدید انسانی تاریخ کا عجیب ترین مقدمہ ریکارڈ کرایا ہے 11سالہ بچے پر مقدمہ۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین پر قابض حکمران خاندان نے گذشتہ 15 مہینوں میں انسانی تاریخ کے متعدد عجیب واقعات کو جنم دیا ہے اور انسانی تاریخ میں انسانی حقوق کو جس وسعت اور شدت سے پامال کیا ہے اور جس اعلانیہ انداز سے اس نے انسانیت کا مذاق اڑایا ہے اس کی بھی کوئی مثال نہيں ملتی اور جس مجرمانہ انداز سے انسانی حقوق اور جمہوریت کے دعویدار ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے ان سب واقعات پر آنکھیں بند کررکھی ہیں اس کی بھی کوئی مثال نہيں ملتی۔ انسانی حقوق کی پامالی کے تسلسل میں ہی خلیفی حکومت اور اس سے وابستہ عدالت نے کل ایک مقدمہ ریکارڈ کرایا ہے جو اپنی مثال آپ ہے؛ اس مقدمے میں ایک گیارہ سالہ بچہ "مدعا علیہ" تھا اور آل خلیفہ خاندان "مدعی" کے طور پر حاضر تھا اور انسانی حقوق اور جمہوریت کے نام پر دنیا کے ممالک کو بلیک میل کرنے والی عالی قوتیں اور تنظیمیں اس مقدمے کے خاموش تماشائی تھے۔امریکہ اور برطانیہ کے حمایت یافتہ آل خلیفہ حکومت کی طرف سے اس وحشیانہ مقدمے میں اس چھوٹے بچے پر الزام تھا کہ "اس نے <قومی سلامتی> کے خلاف اقدام کیا ہے!"، یعنی در حقیقت یہ معاصر تاریخ میں "بچوں کے حقوق کے سادہ ترین مفاہیم" کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا گیا یا یوں کہئے کہ مدعا علیہ علی حسن نامی چھوٹا سا بحرینی بچہ نہ تھا بلکہ بچوں کے حقوق کو مدعا علیہ کے عنوان سے بےعدالتی کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا گیا۔ بچے کو آل خلیفہ کی مطلق العنان حکومت کے خلاف پرامن مظاہرے کے دوران گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ وہ تو ایک ماہ قبل اپنے اسکول سے گھر لوٹ رہا تھا کہ راستے میں خلیفی گماشتوں نے اس کو پکڑ لیا اور سیاسی اذیتکدوں میں منتقل کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ 11 سالہ بچے نے آل خلیفہ کی سلامتی کو درہم برہم کیا ہے۔ 

آل خلیفہ کی جیلوں میں تین ہزار سے زائد شہری اور سیاستدان قید ہیں جن میں درجنوں بچے بھی شامل ہیں لیکن امریکہ اور برطانیہ بھی اس کا ساتھ دے رہے ہیں چنانچہ اس کو کسی قسم کے دباؤ کا سامنا بھی نہيں کرنا پڑتا جیسا کہ شام میں آل سعود اور آل ثانی خاندان، اردن کا حکمران خاندان اور ترکی میں نام نہاد اسلام پسند حکمران امریکی منظوری سے دہشت گردوں کو مدد پہنچاتے ہیں اور دہشت گرد بھرتی کرکے شام بھجواتے ہیں اور انہیں امریکہ، اسرائیل اور یورپ کی باقاعدہ حمایت حاصل ہے لیکن پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہر روز ڈرون کے حملے کئے جاتے ہيں اور کہا جاتا ہے کہ ان علاقوں میں دہشت گرد چھپے ہوئے ہيں اور عجیب تر یہ کہ امریکہ اور قطر اور سعودی عرب سب مل کر پاکستان میں بعض حلقوں کی مدد سے کالعدم طالبان تحریک کے دہشت گردوں کو جہازوں میں بھر بھر کر ترکی پہنچارہے ہیں اور انہیں وہاں سے مسلح کرکے شام میں داخل کیا جارہا ہے۔ یعنی دہرے معیار جتنے اس زمانے میں طشت از بام ہورہے ہیں اس سے پہلے کبھی نہيں ہوئے لیکن صرف آزاد سوچ کی ضرورت ہے انسان کو کہ وہ اس واضح منافقت کو منافقت سمجھے اور اگر اس کے خلاف آواز اٹھانے کی قوت نہيں رکھتا تو کم از کم اس سے دل ہی دل میں نفرت رکھے اور اس سے بیزاری ظاہر کرے۔دریں اثناء دنیا کی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نے تصدیق کی ہے کہ بحرین میں 2000 افراد سیاسی قیدی ہیں۔ادھر انسانی حقوق اور بچوں کے حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے زبانی کلامی طور پر بحرین میں آل خلیفہ کی طرف سے اس بچے کو قید کرنے اور اس پر بھاری الزامات عائد کرکے اس پر مقدمہ چلانے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے کیونکہ آل سعود اور امریکہ کی حمایت یافتہ خلیفی حکومت نے اس چھوٹے سے بچے کے ساتھ ایسا طرز سلوک اپنایا ہے جو بیشتر ممالک میں خطرناک دہشت گردوں کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔ ناروے کی ریڈیو رپورٹناروے کے ریڈیو "آسٹون" (Oston) نے اپنے ایک پروگرام میں بحرین میں انسانی حقوق کی حلاف ورزی کے مختلف واقعات کا جائزہ لیا ہے اور کہا ہے کہ ننھے علی حسن کی گرفتاری اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آل خلیفہ حکومت پر گرفتاریوں اور کچلنے کا جنون سوار ہے اور اس سلسلے میں وہ بچوں پر بھی رحم نہيں کرتی ہے۔اس ریڈیو نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ اس بحرینی بچے پر الزام ہے کہ "اس نے قومی سلامتی کے خلاف اقدام کیا ہے" اور جب تفصیل پوچھی جاتی ہے کہ آل حلیفہ حکومت کہتی ہے کہ "اس لئے کہ اس بچے نے سڑک پر کانٹے اور گھاس پوس پھینک دی ہے"۔ریڈيو کا کہنا تھا: فرض کریں کہ اگر اس بچے نے واقعی ایسا کیا ہو اور اس کا یہ اقدام سڑک کی بندش کا سبب بنا ہو بھی تو یہ ملکی سلامتی کے لئے خطرناک نہيں ہوسکتا لیکن جب ہم آل خلیفہ کے جوابی اقدام اور بچے کی گرفتاری اور اس پر عدالت میں مقدمہ چلانے جیسے اقدامات پر نظر ڈالتے ہيں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ آل خلیفہ حکومت ایک بچے کے اس اقدام سے کس قدر ہراساں ہوگئی ہے! اور معلوم ہوتا ہے کہ آل خلیفہ کی ریاست ایک پولیس اسٹیٹ ہے جو ایک بچے کے سہوی اقدام اور اپوزیشن جماعتوں کے کسی رکن کے احتجاجی اقدام میں فرق کی قائل نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک بچے کے اقدام کو ایک دہشت گردانہ کاروائی سمجھ بیٹھی ہے!۔ ریڈیو کا کہنا تھا: آل خلیفہ حکومت کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حکومت اس قدر زد پذیر اور کمزور ہے کہ ایک گیارہ سالہ بچہ اس کا تختہ الٹ سکتا ہے!۔ ریڈیو نے کہا: آل خلیفہ کے اس اقدام کی مثال دنیا میں کسی بھی معاشرے میں دیکھنے کو نہيں ملتی اور افریقہ کی کسی پسماندہ قوم کے ریکارڈ میں اس قسم کا کوئی اقدام ثبت نہیں ہوا ہے۔ اس یورپی ریڈیو نے کہا: علی حسن ان لوگوں اور بچوں میں سے ایک ہے جن کو آج تک بحرینی بادشاہ کے لئے قربان کردیا گیا ہے اور آل خلیفہ کے بادشاہ کے مظالم کی زد میں آئے ہیں لیکن ضرورت تو اس امر کی تھی کہ خلیفی بادشاہ اس بچے کی بجائے ان سیکورٹی اہلکاروں پر مقدمہ چلاتا جنہوں نے اس بچے کو گرفتار کیا ہے اور ان سے باز خواست کرتا کیونکہ آل خلیفہ کے سیکورٹی اہلکار ہی ہیں جنہوں نے بحرینی بچوں کو خوف و ہراس میں مبتلا رکھا ہوا ہے۔ بحرینی بچے علی حسن کے وکیل "شہزلان خمیس" نے کہا تھا کہ ایسی کوئی امید اور کوئی علامت نظر نہيں آرہی کہ خلیفی حکومت اس بچے کو رہا کرے گی کیونکہ وہ گذشتہ ایک مہینے سے جیل میں ہے۔خمیس نے امریکی ٹیلی ویژن سی این این سمیت مختلف ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بحرینی بچے کی گرفتاری کی کیفیت کے بارے میں کہا کہ آل خلیفہ کی انسداد فسادات افواج نے علی حسن اور اس کے دو دوستوں پر حملہ کیا اور اس حملے میں علی حسن کے دوست فرار کرجاتے ہیں لیکن وہ فورسز کی طرف سے گولی چلانے کی دھمکی سن کر رک گیا اور فورسز نے اس کو گرفتار کرلیا اور پہلے مرحلے میں اس پر الزام لگایا گیا کہ اس نے اجازت کے بغیر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی!۔وکیل نے کہا: علی حسن ایک مہینے سے اسیر ہے اور اس کو اہل خانہ سے دور رکھا گیا ہے اور اس پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے اجازت کے بغیر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی نیز اس نے سڑک پر کوڑا کرکٹ پھینکنے اور سڑک کو بند کرنے کا الزام لگایا گیا ہے جبکہ فورسز نے اس سڑک کو ایک بار کھول دیا تھا!، اس بچے پر یہ بھی الزام ہے کہ گویا اس نے آل خلیفہ کے خلاف بغاوت میں شرکت کی ہے "اور ایک آدمی نے اس کو تین دینار دیئے ہیں کہ وہ ان مظاہروں میں شرکت کرے!"۔ ادھر کمسن بحرینی اسیر علی حسن کے والد نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بچے کو فوری طور پر رہا کیا جائے کہ اس کا جیل میں رہنا آل خلیفہ حکومت کے لئے نقصان دہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا بچہ ایک علاقے میں تین دوسرے بچوں کے ہمراہ موجود تھا جبکہ آل خلیفہ کے قانون کے مطابق اگر کسی علاقے میں پانچ افراد اکٹھے ہونا چاہیں تو ان کو حکومت سے اجازت لینی ہوگی! چنانچہ ان پر غیرقانون اجتماع میں شرکت کا الزام لگانا درست نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت نے میرے بچے پر پولیس کی مزاحمت کا الزام لگایا ہے جبکہ یہ الزام میرے بچے پر عائد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ابھی گیارہ سال کا بچہ ہے اور اس کے بارے میں اس طرح کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے کہا: علی حسن میرے خاندان کا دوسرا لڑکا ہے جبکہ وہ تین بہنوں کا بھائی ہے اور اس کا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے اور علی حسن چھٹی جماعت کا طالبعلم ہے۔ علی حسن اتوار 13 مئی 2012 کو "الفریج" کے محلے میں اپنے ساتھوں کے ساتھ گھر سے نکلا ہے جبکہ اس وقت اس علاقے میں نہ کوئی مظاہرہ ہورہا تھا اور نہ ہی جھڑپیں ہورہی تھیں لیکن بعض دوستوں نے مجھے بتایا کہ فورسز اس کو پکڑ کر لے گئی ہیں۔

واضح رہے کہ ننھے علی حسن کو کل خلیفی عدالت میں پیش کیا گیا اور خلیفی جج کے پاس گویا اس کی رہائی کے سوا کوئی راستہ نظر نہ آیا کیونکہ ایک چھوٹے بچے پر اتنے سنگین الزامات کسی کو ہضم نہیں ہورہے تھے چنانچہ اس کے "ضمانت" پر رہا کیا گیا اور اب وہ اگلی سماعت کا انتظار کرے گا۔

آل خلیفہ حکومت نے اب تک ہزاروں افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں درجنوں بچے بھی شامل ہیں درج ذیل تصویر میں بعض بچوں کی تصاویر اور ان کی عمریں درج ہیں؛ ملاحظہ فرمائیں:

...............

/110

رپورٹ دیکھنا نہ بھولئے:

آل خلیفہ کی جنگ بچوں کے خلاف----------------------------------------

علی حسن کی رہائی کا مطالبہ

گرفتاری سے پہلے

علی حسن کی رہائی کا مطالبہ

علی حسن سمیت اسیر بحرینی بچوں کی رہائی کا مطالبہ

فتح علی حسن کا مقدر اور ناکامی علی حسن سے خوفزدہ آل خلیفہ خاندان کا انجام

علی حسن اپنے بزرگ (داد یا نانا) کے پہلو میں