9 جون 2012 - 19:30

نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں میں خود کشی کا عمل تیزی سے بڑھتا جارہا ہے جیساکہ رواں سال کے آغاز سے ابتک افغانستان میں ایک سو پینتالیس امریکی فوجی خود کشی کرچکے ہیں اور یہ تعداد رواں سال کے آغاز سے ابتک اس ملک میں ہونے والی مختلف جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے ۔

ابنا: افغانستان و عراق ميں امریکی فوجیوں کی خود کشی امریکہ کی مشکلات کا صرف ایک حصہ ہے اور اس حوالے سے بڑھتا ہوا رجحان اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ حکومت امریکہ اپنے ملک کے فوجیوں میں بڑھتی ہوئی نفسیاتی بیماریوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے جیساکہ سنہ 2012 کی پہلی ششماہی میں خود کشی کرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد گذشتہ ایک عشرے کے دوران اس عرصے میں خود کشی کرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی وزارت دفاع نے گذشتہ ہفتے امریکی فوجیوں میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجوہات کا پتہ لگانے کیلئے ماہرین کا ایک گروہ تیار کیا ہے مگر یہ گروہ بھی ابتک کوئی وجہ معلوم نہیں کرسکا ہے ۔ پینٹاگون کے حکام نے امریکی فوجیوں میں خود کشی کے علاوہ بڑھتے ہوئے جنسی تجاوز و بے راہروی ۔ شراب نوشی ۔ تشدد و جارحیت اور ناپسندیدہ اعمال جیسے مسائل کا بھی ذکر کیا ہے ۔

امریکہ کے اس وقت چودہ لاکھہ فوجی سرگرم عمل ہیں اور ان فوجیوں میں خود کشی کے بڑھتے ہوئےعمل کے یہ اعداد و شمار ایسی حالت میں درج کئے گئے ہیں کہ امریکی حکام نے حالیہ برسوں میں اپنے ملک کے فوجیوں کی نفسیاتی سلامتی اور ذہنی سکون کیلئے کافی اقدامات کئے ہیں جبکہ ان اقدامات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے ۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ افغانستان اور عراق میں فوجیوں کی طویل مدت موجودگی اور ان فوجیوں کو بار بار ان دونوں ملکوں کیلئے روانہ کیا جانا امریکی فوجیوں میں بڑھتی ہوئی نفسیاتی بیماری کی اہم ترین وجوہات ہیں ۔ نئی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ خود کشی ۔ گوشہ نشینی ۔

منشیات کی عادت ۔ الجھن و بے چینی و اضطراب اور افسردگی نیز گھرانوں سے دوری اور ان میں انتشار ایسے مسائل ہیں جو امریکی فوجیوں میں جنگ میں شرکت کرنے کی بناء پر پیدا ہوئے ہیں ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ بعض امریکی فوجی جسمانی بیماریوں اور بعض دیگر اخلاقی و نفسیاتی بیماریوں کی بناء پر اپنے گھروں کو واپس لوٹا دئے جاتے ہیں ۔ چنانچے امریکہ کے ایک سابق فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں میں یہ سب مسائل و مشکلات ایسی صورت میں پیدا ہورہی ہیں کہ امریکی سیاست داں اور وزارت دفاع یعنی پینٹاگون کے حکام اس بات کے دعویدار ہیں کہ امریکی فوجیوں کی حمایت کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ .......

/169