2 جون 2012 - 19:30

شام کے صدر بشار اسد نے ملک کي اندروني مشکلات پر قابو پانے کے لئے حکومت اور عوام کے درميان تعاون کي ضرورت پر زور ديا ہے۔

ابنا: اتوار کے روز ملک کي نو منتخب پارليمان کے افتتاحي اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر بشار اسد نے کہا کہ ملک ميں جاري اصلاحات کے عمل نے ملک دشمن قوتوں کي سازشوں کو کافي حدتک ناکام بناديا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک ميں گزشتہ ڈيڑ سال سے بحران جاري ہے اور اس بار سامراجي طاقتيں نئے حربوں کے ذريعے شام کے خلاف اپنے توسيع پسندانہ مقاصد کے حصول کي کوشش کر رہي ہيں-

شام کے صدر نے يہ بات زور ديکر کہي کہ سياسي عمل اور دہشتگردي کو يکساں قرار دينا بہت بڑي غلطي ہے۔انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے ہميں دہشتگردي اور سياسي عمل کے درميان فرق کا قائل ہونا پڑے گا۔

بشار اسد نے واضح کيا کہ حکومت کو پہلے ہي اس بات کا علم تھا کہ دہشتگرد سياسي عمل کو قبول نہيں کريں گے۔شام کے صدر نے کہا کہ انکا ملک اس وقت ايک حقيقي جنگ سے دوچار ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس جنگ کا اندروني مشکلات سے کوئي تعلق نہيں ہے۔

انہوں نے ايک بار پھر کہا کہ حقيقي اصلاحات اور صداقت کے ساتھ بات چيت کا مطالبہ کرنے والوں کے لئے  ہمارے دروازے ہر وقت کھلے ہوئے ہيں۔ شام کے صدر نے کہا کہ قومي سلامتي کي حد کسي کو عبور کرنے کي اجازت نہيں دي جائے گي۔

.......

/169