ابنا: صدر مملکت نے فرانس ٹوينٹي فور ٹي وي چينل سے خصوصي گفتگو ميں کہا ہے کہ يورينيئم کي بيس فيصد افزودگي اين پي ٹي کے تحت ايران کا مسلمہ حق ہے - صدرڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ عالمي طاقتيں ايران کے ساتھ جامع مذاکرات کے ذريعے جس چيز کو روکنے کي کوشش کر رہي ہيں وہ عالمي قوانين کے تحت ہمارا حق ہے- ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے درميان ماسکو ميں مجوزہ مذاکرات کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ انہيں اميد ہے کہ مذاکرات کا عمل باہمي احترام کي بنياد پر انجام پائے گا- انہوں نے کہا کہ انہيں ماسکو مذاکرات ميں کسي معجزے کي اميد نہيں ہے تاہم مذاکرات مثبت اور تعميري سوچ کے ساتھ ہونے چاہئيں-
بحالي اعتماد کے بارے ميں پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں صدر مملکت نے کہا کہ بےاعتمادي دوطرفہ ہے لہذابحالي اعتماد کا عمل دونوں طرف سے ہونا چاہئے - انہوں نے کہا کہ بحالي اعتماد کے لئے ہميں قوانين کے دائرے ميں رہتے ہوئے بات چيت کرنا ہوگي اور تعاون کا ماحول تيار کرنا ہوگا-
صدرڈاکٹر محمود احمدي نژاد نےاس گفتگو ميں استفسار کيا کہ کيا ايٹم بم رکھنے والےمغرب پر اعتماد کيا جاسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ دنيا بتائے کہ يورينيئم کي بيس في صد افزودگي زيادہ خطرناک ہے يا ايٹم بم زيادہ خطرناک ہيں؟
صدرمملکت نے يورپي ملکوں کو مشورہ ديا کہ وہ ايران کے تعلق سے اپنے لب و لہجے کو تبديل کرے
اسرائيلي دھمکيوں کے بارے ميں پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں صدرڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ اگر ہم اسرائيل کے خلاف ايسي دھمکياں ديتے تو مغرب کا ردعمل کيا ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ دنيا کي ساري مشکلات ايسے ہي دوہرے معياروں کي وجہ سے ہيں-
ڈاکٹرمحمود احمدي نژاد نےکہا کہ ايران کے عوام نے ہميشہ اپنے دشمنوں کو پشيمان کيا ہے- انہوں نے ايران کے خلاف صدام کي جارحيت کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ اس کو مغرب کي بھرپور حمايت حاصل تھي اور اس نے اپنا انٹرويو يہ کہہ کر ادھورا چھوڑ ديا تھا کہ بقيہ گفتگو تہران ميں ہوگي -
صدرڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے سوال کيا کہ اب صدام کہاں ہے ؟ اور ايران کس مقام پر ہے ؟ انہوں نے کہا کہ پوري دنيا جانتي ہے کہ کيا ہوگا لہذا مسائل کا سنجيدگي اور دقت کے ساتھ جائزہ لينا چاہئے-
دوسري طرف ايٹمي توانائي کي عالمي ايجنسي ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے مستقل مندوب نے بعض ملکوں کو نصيحت کي ہے کہ وہ ايران اور ايجنسي کے درميان جاري مثبت و تعميري تعاون کي فضا کو خراب نہ کريں- علي اصغرسلطانيہ نے ويانا ميں ايجنسي کے دفتر ميں مختلف ملکوں کے سفيروں کي موجودگي ميں يوکيا آمانو کي حاليہ رپورٹ پر اپنا بيان ديتے ہوئے فني معاملات پر بعض سوالات کے جواب ديئے اور کہا کہ سبھي ملکوں کو چاہئے کہ وہ اس بات کا موقع ديں کہ ايران اور ايجنسي کے درميان فني اور پيشہ ورانہ تعاون کا سلسلہ جاري رہے .......
/169