ابنا: مزید اطلاعات کے مطابق واقعہ اورنگی ٹاون سیکٹر نمبر 10 نزد اسلم شہید چوک نزد مدنی چوک کے قریب پیش آیا۔ شہید ہونے والے نوجوانوں 35 سالہ مہدی رضا ولد مہدی حسن اور 21 سالہ احمر عباس ولد قمر عباس کے نام سے ہوپائی ہے۔
دونوں شہید نوجوان انچولی اور گلشن امین کی رہائشی تھے۔ زرائع بتاتے ہے کہ 35 سالہ مہدی رضا ولد مہدی حسن اور 21 سالہ احمر عباس ولد قمر عباس ایک ورک شاپ میں کام کرتے تھے۔ بس سے اُترتے ہی گھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر حملہ کردیا، دہشتگردوں کی فائرنگ سے دونوں نوجوان شہید ہوگئے۔ شہید نوجوانوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا، آخری اطلاعات کے مطابق دونوں شہید نوجوانوں کے جسد خاکی کو انچولی سوسائٹی کے امام بارگاہ شہدائے کربلا لایا جارہا ہے۔
واضع رہے کہ کچھ گھنٹوں پہلے کراچی میں ایک سول جج سید ضمیر نقوی کو فرقے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہیں جو زخمی حالت میں زیر علاج ہیں۔ جبکہ گزشتہ دنوں ایک نوجوان یوسف بنگش بھی دہشتگردوں کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے تھے۔ 24 گھنٹوں میں دہشتگرد کراچی میں 4 شیعہ مومنین کو اپنی دہشتگردی کا نشانہ بناچُکے ہے جن میں سے دو شہید اور دو زخمی حالت میں مقامی اسپتال میں زیر علاج ہے۔
دہشتگردوں کی حالیہ کاروائی میں تیزی اور حکومت سمیت سکیورٹی اداروں کی خاموشی انتہائی تشویش ناک ہے۔ عدلیہ کی بے حسی اپنے عروج پر ہے۔ عدل دشمن “چیپ” جسٹس افتخار چوہدری کو سب تو نظر آتا ہے مگر پاکستان میں جاری شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی دیکھنے سے قاصر ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کے شیعہ مسلمانوں کے حوالے سے حکومت مکمل غلط اور گمراہ کُن پالیسی میں عمل کررہی ہے۔ شیعہ قوم میں پایا جانے والا احساس محرومی کسی بڑے خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔
..............
/169